Sunday, April 23, 2023

تیسواں پارہ

 *تیسواں پارہ*


*’’سورۃ النبا‘‘*

الحمدللہ آج ہم تیسویں پارے کا خلاصہ پڑھنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، جس کی ابتدا سورئہ نباء سے ہوتی ہے جس میں قیامت کے متعلق کافروں کے شک اور تردد کی نفی کی گئی اوربتایا گیا کہ قیامت کا آنا یقینی ہے، قیامت کا نقشہ کھینچا گیا، سرکشوں کےلئے عذاب ہے جس میں اضافہ ہوتا رہے گا، نیک لوگوں کےلئے انعام و اکرام ہے، اس دن فرشتے میدان حشر میں صف باندھے کھڑے ہوں گے، بغیر اجازت کوئی بول نہ سکے گااور کفار تمنا کریں گے کاش، وہ مٹی ہوتے۔


*سورۃ النازعات:*

اس سورت میں بھی قیامت کا ذکر ہے اور کفار و مشرکین کا کہنا ہے کہ کیا مرنے کے بعد پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے، اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوسناک ہے، جب کہ قیامت کے دن ان کے دل دھڑک رہے ہوں گے، دہشت، ذلت اور ندامت کی وجہ سے ان کی نظریں جھکی ہوں گی۔ فرعون کا ذکر کر کے بتایا کہ وہ بھی قیامت کا منکر تھا، اس کا انجام یاد رکھو اور جس دن یہ قیامت کو دیکھیں گے تو ان کو ایسا معلوم ہو گا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول دنیا میں رہے۔


*سورئہ عبس:*

رحمت عالمؐ ایک موقع پر سرداران قریش کو دعوت اسلام دینے میں مصروف تھے کہ آپؐ کے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ ابن مکتومؓ آ گئے اور انہوں نے آپؐ کی توجہ اپنی طرف پھیرنی چاہی جسے آپؐ نے ناپسند فرمایا، اس موقع پر سورئہ عبس نازل ہوئی جس میں نابینا صحابی کی دلجوئی اور توجہ دینے کا کہا گیا۔ قرآن نصیحت ہے، ناشکری نہیں کرنی چاہئے، ایمان والوں کے چہرے قیامت کے دن روشن، ہنسنے والے ہوںگے جب کہ کفر کرنے والوں کےچہرے سیاہ ہوں گے۔


*سورۃ التکویر*

قیامت کا منظر کھینچا گیا کہ کائنات کی کوئی بھی چیز محفوظ نہ ہو گی، سورج، ستارے، پہاڑ اور سمندر، ریت کے گھروندے ثابت ہوںگے، پھر اللہ تعالیٰ نے چار قسمیں کھا کر قرآن کی حقانیت ا ور نبی اکرمؐ کی نبوت و رسالت کو بیان فرمایا۔ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں بلکہ یہ اللہ کا کلام ہے جو تمام عالم کےلئے نصیحت ہے۔


*سورۃ الانفطار:*

قیامت میں کائنات کی جو حالت ہو گی اس کو بیان کر کے انسان سے شکوہ کیا گیا کہ کس چیز نے تجھے اپنے پروردگار کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے کہ اس کے احسانات بھلا کر معصیت اور ناشکری پر اتر آیا ہے۔

قیامت میں دو قسم کے لوگ برابر ہوں گے، یعنی نیک جن کا ٹھکانہ جنت ہے اور فجار یعنی نافرمان، ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔


*سورۃ المطففین:*

ناپ تول میں کمی و بیشی کرنے والے جن کے دینےکے پیمانے اور ہوتے ہیں، لینے کے پیمانے اور ہوتےہیں، اس طرح انسانوں کے حقوق غصب کرتے ہیں، ان کےلئے ہلاکت کی وعید ہے۔

قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کر کے بتایا گیا کہ دنیا میں مجرم اور سرکش نیک لوگوں کا مذاق اڑاتے تھے، قیامت میں نیک لوگ ان پر ہنسیں گے۔


*’’سورۃ انشقاق:‘‘*

قیامت کی ہولناکی کا ذکر ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا اور جب حساب لیا جائے گا تو کچھ لوگوں کو نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ خوش ہوں گے اور جنت میں جائیں گے اور جن کے نامہ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے دیئے جائیں گے وہ جہنم میں جائیں گے۔


*’’سورۃ البروج:‘‘*

نجران کے حق پسند اور عیسائی اہل ایمان کو یہودی ظالم بادشاہ ذونواس نے آگ سے بھرے گڑھے میں پھنکوا دیا، ساحر، راہب اور نوجوان لڑکے کا قصہ منقول ہے جس کی استقامت دیکھ کر ہزاروں لوگوں نے اسلام قبول کیا اور خندقوں والی دہکتی آگ میں ڈالے گئے، پھر فرمایا گیا کہ اللہ کی پکڑ بڑی شدید ہے، جب کوئی اس کے عذاب کی گرفت میں آ جائے تو بچ نہیں سکتا۔


*’’سورۃ الطارق:‘‘*

اللہ نے آسمان کی، اور رات کو چمکنے والے ستارے کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہر انسان پر نگہبان فرشتہ مقرر ہے، انسان اپنی تخلیق پر غور کرے، اللہ کی تدبیر کے مقابلے میں انسانی چال کچھ نہیں ہے، کفار کو ڈھیل دی جا رہی ہے 

بالآخر گرفت میں آئیں گے۔


*’’سورۃ الاعلیٰ:‘‘*

اللہ کی تسبیح و تحمید کر کے بتایا کہ انسان کو پرکشش صورت سے نواز کر ایمان و سعادت کا راستہ دکھایا، قرآن نصیحت ہے جوکہ یاد کرنےکےلئے آسان ہے، کامیابی کے تین اصول ہیں تزکیہ، ذکر الٰہی اور نماز جو ان پر کاربند ہو وہ کامیاب ہے، پہلے آسمانی صحیفوں میں بھی یہی ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ پر نازل ہوئے۔


*’’سورۃ الغاشیہ‘‘*

غاشیہ یعنی ڈھانپ لینے والی قیامت کا نام ہے کہ اس کی ساری ہولناکیاں مخلوق کو ڈھانپ لیں گی، اس دن کفارکےچہرے جھلسےہوںگے جب کہ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے، اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین کی تخلیق پر غور کرو، آپؐ کے ذمے نصیحت کرنا ہے اور ہم حساب لیں گے۔


*’’سورۃ الفجر:‘‘*

فجر کے وقت، جفت و طاق، دس راتیں اور جب رات جانے لگے گواہ ہیں عاد، ثمود، فرعون تباہ ہوئے، یتیموں کے ساتھ ظلم اور حقارت، مسکینوں کی نہ خود مدد کرنا اور نہ ترغیب دینا، میراث غصب کرنا، مال کی محبت میں اندھا ہونا ان برائیوں میں مبتلا ہو کر انسان زمین پر فساد پھیلاتا ہے اور جہنم کا ایندھن بنتا ہے جب کہ نیک عمل لوگوں کے لئے جنت کی بشارت ہے۔


*’’سورۃ البلد‘‘*

چند قسموں کو ثبوت کے طورپر پیش کر کے کہا کہ آرام و راحت صرف قانون الٰہی کے مطابق زندگی گزارنے میں ہے، انسان کی شکرگزاری یہ ہے کہ انسانوں کو غلامی، قید سے چھڑائے، یتیموں، مسکینوں کی مدد کرنا، بھوکوں کو کھانا کھلانا اور آپس میں حق کی وصیت اور مشکلات پر صبر کرنا۔


*’’سُورَۃُالشمس‘‘*

سورج، چاند، دن، رات، آسمان، زمین اور نفس انسانی کی قسم کھا کر فرمایا کہ انسان اپنے رب سے ڈرے اور نفس کا تزکیہ کرے توکامیاب ہے ورنہ ناکام جس طرح قوم ثمود نے نافرمانی کی اور ہلاک ہوئی۔


*’’سورۃ اللیل‘‘*

جو لوگ قرآن کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، تقویٰ اختیار کرتے ہیں، بخل نہیں کرتے، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں، وہ آخرت میں کامیاب ہیں اور اس کے برعکس لوگ ناکام ہیں، جہنم کا ایندھن ہیں۔


*’’سورۃ الضحٰی‘‘*

اللہ نے اپنے حبیبؐ سے قسم کھا کر فرمایا کہ آپؐ کے رب نے نہ تو آپؐ کو چھوڑا ہے اور نہ ناراض ہے، آپؐ کی آخرت بہتر ہے، اللہ آپؐ کو غنی کر دے گا، اللہ ہی نے آپ کو ٹھکانہ دیا، راستہ دکھایا تو یتیم پر سختی نہ کریں، سائل کو نہ جھڑکیں اور رب کی نعمتوں کا تذکرہ کریں۔


*سورۃ الانشراح:*

آپؐ کا سینہ کھول دیا، بوجھ اٹھا دیا اور آپؐ کا ذکر ہمیشہ کےلئے بلند کر دیا، شکر، عبادت اور اللہ کی طرف رغبت کریں۔


*سورۃ التین:*

چار قسمیں کھا کر فرمایا کہ انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا، ایمان اور اعمال صالحہ سے عظمت حاصل کرتا ہے جب کہ کفر اور تکذیب سے ذلت کی گہرائی میں گر جاتا ہے۔


*سورۃ العلق*

ابتدائی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہے جو آپؐ پر غار حرا میں نازل ہوئی، انسان کی تخلیق اور قرأت اور کتابت کے ذریعے تمام مخلوقات پر فضیلت کا ذکر ہے، مال اور دولت، غرور و سرکشی کا ذریعہ ہے، وقت کے فرعون ابوجہل کا ذکر ہے۔


*سورۃ البینہ:*

آپؐ کی ذات عالیہ خود رسالت کی ایک روشن دلیل ہے، کوئی عمل بغیر ایمان کے اور ایمان بغیر اخلاص کے معتبر نہیں، ہر نبی نے اپنی امت کو اسی بنیاد پر دعوت دی، کفر و شرک کرنے والےبدترین مخلوق ہیں، ہمیشہ جہنم میں رہیں گے جب کہ ایمان اور اعمال صالحہ والے بہترین مخلوق ہیں، ان کو جنت کی ابدی نعمتیں اور رب کی رضا ہے۔


*’’سورۃ الزلزال‘‘:*

قیامت اور خوفناک زلزلے کا ذکر ہے، زمین سب اگل دے گی، ذرہ بھر بھی نیکی ہویا بدی ظاہر ہو جائے گی۔


*سورۃ العادیات:*

گھوڑا اپنے مالک کا وفادار ہے جب کہ انسان ناشکرگزاری اور مال کی شدید محبت میں گرفتار ہے، موت کے بعد ساری ناشکریوں اور نافرمانیوں کی پاداش میں سخت سزا ہو گی۔


*سورۃ القارعہ‘‘:*

قیامت کی ہولناکی کا ذکر ہے، جن کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گا من پسند زندگی میں ہوں گے اور ہلکا ہو گا تو عذاب ہو گا۔


*سورۃ التکاثر:*

مال و دولت کی کثرت انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے جب کہ اسے نعمتوں کا جواب دینا ہے اور سزا بھگتنی ہے۔


*سورۃ العصر:*

ایمان، عمل صالح اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کرنے والوں کے علاوہ تمام لوگ خسار ے میں ہیں۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر پورا قرآن نازل نہ ہوتا تو بھی صرف یہ سورت انسانوں کی ہدایت کے لئے کافی تھی۔


*سورۃ الھمزہ:*

منہ پر برا بھلا کہنے والے، غیبت کرنے والے، مال و دولت سمیٹ سمیٹ کر جمع کرنے والوں کے لئے ہلاکت کی وعید ہے اور یہ لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔


*’’سورۃ الفیل:‘‘*

جس سال آپؐ کی ولادت باسعادت ہوئی اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا، اس کو عبرت کے طور پر بتایا کہ لوگ شعائراللہ کی توہین سے باز رہیں۔


*سورۃ القریش:*

قریش کو اللہ نے اپنی نعمتیں یاد دلائیں تاکہ خالص اللہ کی عبادت کریں جس نے ان کو عزت عطا کی، بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن عطا کیا۔


*’’سورۃ الماعون:‘‘*

روز جزا کو جھٹلانے والے، یتیموں کو دھکے دیتے ہیں، مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے، نماز سے غافل ہیں، ریاکاری کرتے ہیں، عام استعمال کی چیز مانگنے پر نہیں دیتے۔


*سورۃ الکافرون:*

آپؐ اعلان فرما دیں کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کر سکتے، ایمان اور کفر علیحدہ علیحدہ ہیں، تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین۔


*’’سورۃ النصر‘‘*

اس سورت میں بشارت ہے، خوشخبری ہے اللہ کی مدد کی، فتح مکہ کی لیکن اس موقع پر جشن نہیں منانا بلکہ اللہ کی حمد و تسبیح اور استغفار کرنا ہے۔


*ؕسورۃ اللہب*

ابولہب اور اس کی بیوی کی اسلام دشمنی کی وجہ سے ہلاک ہونے اور جہنم میں جانے کی وعید سنائی گئی ہے۔


*سورۃ الاخلاص:*

توحید کا سبق دیا گیا کہ اللہ ایک ہی ہے، وہ بے نیازہے، اولاد اور ماں باپ ہونے اور شریکوں سے پاک ہے اس کا کوئی ہمسر نہیں۔


*سورۃ الفلق:*

ہر قسم کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آنا چاہئے خصوصاً مخلوق کے شر سے، اندھیرے کے شر سے، پھونکیں مارنے والیوں کے۔شر سے اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔


*سورۃ الناس:*

لوگوں کے پالنہار، لوگوں کے بادشاہ اور لوگوں کے معبود کی پناہ میں آیا جائے وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے چاہے وہ انسانوں میں سے ہو یا جنات میں سے ہو۔


*(اللہ تعالی ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے)*

انتیسواں پارہ

 انتیسواں پارہ

========


اس پارے میں کل گیارہ سورتیں ہیں:


(1) سورۂ ملک میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: توحید کا اثبات ، زمین ، آسمان ، موت ، حیات ، عزت ، ذلت ، زمینی و آسمانی مخلوقات کا خالق و مالک اللہ ہی ہے۔

ب: قیامت کو جھٹلانے والوں کا درد ناک انجام ، جہنم اس قدر جوش میں ہوگی ، یوں لگے گا کہ پھٹ پڑے گی۔


(2) سورۂ قلم میں تین باتیں یہ ہیں:

الف: قلم کی عظمت

ب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ کا بیان

ج: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کی اخلاقی پستی کو بیان کرتے ہوئے آپ کو ان کی بات ماننے سے منع فرمایا گیا ہے ، بالخصوص ولید بن مغیر کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ وہ زیادہ قسمیں کھانے والا ، کمینہ خصلت ، چغل خور ، بھلائی سے روکنے والا ، حد سے بڑھنے والا ، گنہگار ، اکھڑ مزاج اور اس کے علاوہ بد ذات ہے ، اس کی سرکشی کی وجہ یہ ہے کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے ، جب اسے آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں ، ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے


(3) سورۂ حاقہ میں تین باتیں یہ ہیں:

الف: قیامت سے پہلے کے ہولناک واقعات اور پھر قیامت کا تذکرہ ، جسے نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ خوشی خوشی سب کو دکھاتا پھرے گا کہ یہ دیکھو میرا نامۂ اعمال اور جسے بائیں ہاتھ نامۂ اعمال دیا جائے گا وہ تمنا کرے گا کہ کاش! مجھے یہ اعمال نامۂ دیا ہی نہ جاتا اور مجھے معلوم ہی نہ پڑتا کہ میرا حساب کیا ہے؟ کاش! موت نے میرا کام ہمیشہ کے لیے تمام کردیا ہوتا ، نہ مال کام آرہا ہے نہ دنیاوی غلبے۔

ب: بدبختوں کی دو علامتیں ہیں: ایک یہ کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور دوسری یہ کہ وہ مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے۔

ج: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی صداقت کا بیان کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہے۔


(4) سورۂ معارج میں چار باتیں یہ ہیں:

الف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ آپ سے استہزاءً پوچھ رہے ہیں کہ یہ کب آئے گا؟ آپ صبرِ جمیل سے کام لیجیے ، ان کی نظر میں یہ عذاب دور ہے ، مگر ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔

ب: قیامت کا تذکرہ کہ اس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگین روئی کی طرح ہوجائیں گے ، اس دن نہ کوئی دوست کام آئے گا نہ رشتہ دار۔

ج: انسان کے بارے میں بتایا ہے کہ یہ بڑا حریص اور جزع فزع کرنے والا ہے ، مصیبت میں چیخنے لگتا ہے ، مال ہاتھ آئے تو بخیل بن جاتا ہے۔

د: نماز پڑھنے والوں کی آٹھ صفات کا ذکر کرکے بتایا گیا کہ ایسے لوگوں کا جنت میں اکرام کیا جائے گا: (1) نماز کی پابندی (2) سخاوت (3) قیامت کی تصدیق (4) اللہ کے عذاب کا خوف (5) پاکدامنی (6) دیانت داری (7) سچی گواہی (8) نماز کو اس وقت میں ادا کرنا۔


(5) سورۂ نوح  

اس سورت میں حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ ، انھوں نے رات دن اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا ، مگر وہ ان سے بھاگتے رہے ، ان کی دعوت کے وقت اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیا کرتے تھے ، تکبر کرتے تھے ، حضرت نوح علیہ السلام نے انھیں اللہ سے معافی مانگنے کو کہا اور بتایا کہ استغفار کرنے سے بارانِ رحمت برسے گی ، خوب مال اور نرینہ اولاد عطا ہوگی ، باغات اور نہروں کا حصول ہوگا ، انھوں نے ان کے سامنے اللہ کی صفات بیان کی کہ تہ بہ تہ سات آسمان ، چمکتے دمکتے شمس و قمر ، کھیتیاں سب کو بنانے والا اللہ ہی ہے ، ہمیں دوبارہ اسی کے پاس جانا ہے ، مگر قوم نے ایک نہ مانی ، بالآخر اللہ نے ان سب کو غرق کردیا ، آخر میں حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ سے ایک بہت پیاری دعا مانگی: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا


(6) سورۂ جن میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: جنات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کو سن کر اسلام قبول کرنا اور اپنی قوم کو جاکر اس کی دعوت دینے کا واقعہ مذکور ہے۔ 

ب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے حکم دیا کہ کہہ دیجیے کہ اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی شریک نہیں ٹھہراتا ، نہ تمھارا کوئی نقصان میرے اختیار میں ہے نہ بھلائی ، اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے ، میرا کام پہنچانا ہے ، اب جو اللہ اور رسول کا نافرمان ہوگا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ کا مستحق ہوگا۔


(7) سورۂ مزمل میں سات باتیں یہ ہیں:

الف: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیار بھرا خطاب: "اے چادر میں لپٹنے والے"

ب: تہجد کا حکم اور ترغیب

ج: اللہ کے ذکر کا حکم

د: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ آپ کافروں کی باتوں پر صبر کیجیے اور ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجیے۔

ہ: فرعون کی نافرمانی کا تذکرہ

و: قرآن کو جہاں سے سہولت ہو پڑھنے کا حکم۔

ز: نماز ، زکوۃ اور استغفار کا حکم


(8) سورۂ مدثر میں پانچ باتیں یہ ہیں:

الف: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیار بھرا خطاب: "اے چادر میں لپٹنے والے"

ب: انذار ، تکبیر ، تطہیراور صبر کا حکم اور اس بات کا بھی کہ زیادہ پانے کی نیت سے احسان نہ کیا جائے۔

ج: قیامت کا تذکرہ۔

د: ولید بن مغیر کا تذکرہ جس نے یہ رائے دی تھی کہ قرآن کی آیات کو جادو اور بشر کا کلام کہا جائے ، اللہ نے فرمایا کہ اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ، اسے میں نے پیدا کیا ، خوب مال اور نرینہ اولاد عطا کیے ، کاموں کے راستے ہموار کیے مگر اس کی لالچ بڑھتی رہی ، ہماری آیتوں کا دشمن بن گیا ، ہم عن قریب اسے جہنم رسید کریں گے۔

ہ: جنت اور جہنم کے احوال۔


(9) سورۂ قیامہ میں تین باتیں یہ ہیں:

الف: قیامت کا تذکرہ

ب: قرآن کی حفاظت کا ذمہ 

ج: تخلیق انسان کے مراحل


(10) سورۂ دہر میں چار باتیں یہ ہیں:

الف: تخلیق انسان

ب: انسانوں کی دو قسمیں ہیں: شکرگزار اور ناشکرے

ج: آخرت میں کافروں کے لیے زنجیریں ، گلے کے طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔

د: وہ لوگ جو نیک ہیں ، منتیں پوری کرتے ہیں ، روزِ آخرت سے ڈرتے ہیں ، مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں ، ان کے لیے جنت کی نعمتیں ہیں ، من جملہ ان کے کافور کی آمیزش والے مشروبات ہوں گے ، ایک ایسے چشمے سے جسے وہ جہاں چاہیں گے بہاکر لے جائیں گے ، باغات ہوں گے ، ریشمی ملبوسات ہوں گے ، وہ وہاں آرام دہ اونچی نشستوں پر بیٹھے ہوں گے ، نہ دھوپ کی تپش نہ کڑاکے کی سردی ، چاندی کے برتن ہوں گے ، توازن کے ساتھ بھرے ہوئے شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے ، سونٹھ ملا جام ہوگا ، سلسبیل نام کے چشمے ہوں گے ، بکھیرے ہوئے موتیوں جیسے خدمت گار لڑکے ہوں گے جو کبھی بوڑھے نہ ہوں گے ، نعمتوں کا ایک جہان ہوگا ، ایک بڑی سلطنت ہوگی ، باریک اور دبیز ریشم کے ملبوسات انھیں پہنائے جائیں گے ، چاندی کے کنگنوں سے آراستہ کیا جائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پروردگار انھیں پاکیزہ شراب پلائے گا۔


(11) سورۂ مرسلات میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: قیامت کا تذکرہ ، جنتیوں اور جہنمیوں کا ذکر

ب: اس سورت میں اللہ نے گیارہ بار مکذبینِ قیامت کے لیے ہلاکت کا اعلان فرمایا ہے۔


=======

اٹھائیسواں پارہ

 اٹھائیسواں پارہ

========


اس پارے میں کل 9 سورتیں ہیں:


(1) سورۂ مجادلہ میں چار باتیں یہ ہیں:

الف: ظہار کے احکام و مسائل

ظہار (یعنی اپنی بیوی کو ماں کی طرح حرام کہنے) سے مرد پر کفارہ واجب ہوجاتا ہے ، کفارہ ادا کرنے سے پہلے وہ بیوی کے ساتھ ہمبستری نہیں کرسکتا ، کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کیا جائے ، اگر اس کی سہولت نہ ہو تو دو مہینے مسلسل روزے رکھے جائیں اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کے طعام کا بندوبست کرلیا جائے۔

ب: فتنہ و فساد پر مشتمل سرگوشی کی مذمت اور نیکی اور تقوی کی سرگوشی کی ترغیب 

ج: مجلس کے آداب میں سے ہے کہ جب وسعت طلب کی جائے تو وسعت پیدا کی جائے اور جب مجلس سے اٹھ جانے کو کہا جائے تو اٹھ جانا چاہیے۔

د: منافقین کی مذمت


(2) سورۂ حشر میں چار باتیں یہ ہیں:

الف: بنو بضیر کی جلاوطنی کے حالات بتاکر اللہ کی قدرت کو بیان کیا گیا ہے۔

ب: مال غنیمت کے احکام

ج: مہاجرین وانصار کا تذکرہ

د: منافقین کی مذمت


(3) سورۂ ممتحنہ میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: کفار سے دوستی نہ لگاؤ۔

ب: جوعورتیں ہجرت کرکے آجائیں ان کے ایمان کا امتحان لے کر اگر مطمئن ہوجاؤ تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔


(4) سورۂ صف میں تین باتیں یہ ہیں:

الف: جہاد و قتال

ب: بنی اسرائیل کا ذکر

ج: وہ تجارت جس سے دنیا و آخرت کا نفع ہو۔


(5) سورۂ جمعہ میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: یہود کی مذمت

ب: نماز جمعہ کی فرضیت و آداب


(6) سورۂ منافقون

اس سورت میں منافقین کی مذمت اور ان کے اوصاف رذیلہ کا بیان ہے۔


(7) سورۂ تغابن

اس سورت میں یوم التغابن یعنی قیامت کا ذکر ہے۔


(8) سورۂ طلاق میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: طلاق کے احکام

ب: اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے فضائل


(9) سورۂ تحریم

الف: ازواج مطہرات سے متعلق بعض احکام

ب: پچھلی اچھی اور بری عورتوں کا ذکر ، اچھی عورت یعنی مرعون کی بیوی اور بری عورتیں یعنی نوح اور لوط علیہما اسلام کی بیویاں۔


=======

ستائسواں پارہ

 ستائسواں پارہ

========


اس پارے میں سات حصے ہیں:


(1) سورۂ ذاریات:

الف: فرعون ، قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم نوح کا انجام

ب: جن و انس کی تخلیق کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت ہے۔


(2) سورۂ طور:

الف: جنت کی نعمتوں اور جہنم کی ہولناکیوں کا ذکر ہے۔

ب: مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کاہن ، مجنون اور شاعر کہتے تھے ، ان کی تردید کی گئی اور انھیں انتظار کو کہا گیا۔

ج: توحید کا اثبات اور دلائل


(3) سورۂ نجم:

الف: واقعۂ معراج

ب: قیامت کا ذکر

ج: اللہ تعالیٰ کی صفات


(4) سورۂ قمر:

الف: قیامت کا ذکر

ب: شق القمر کا معجزہ

ج: قوموں کے احوال


(5) سورۂ رحمٰن:

اس سورت میں دنیا اور آخرت کی نعمتوں کا ذکر ہے۔


(6) سورۂ واقعہ:

الف: روز قیامت انسانی گروہ کی تین اقسام ، اصحاب الیمین ، اصحاب الشمال اور سابقین مقربین


(7) سورۂ حدید:

الف: اللہ تعالیٰ کی قدرت اورصفات

ب: اللہ کی راہ میں جان ومال لگانے کی ترغیب

ج:  دنیا کی بے ثباتی


=======

چھبیسواں پارہ

 چھبیسواں پارہ

========


اس پارے میں چھ حصے ہیں:


(الف) سورۂ احقاف میں تین باتیں یہ ہیں:

(1) قرآن کی حقانیت 

(2) نیک اور نافرمان اولاد کا ذکر

(3) قوم عاد کا ذکر


۔ ۔ ۔ 


(ب) سورۂ محمد میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) جہاد وقتال (2) جنت

۔ ۔ ۔ 


(ج) سورۂ فتح میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) صلح حدیبیہ (2) صحابہ کی تعریف

۔ ۔ ۔ 


(د) سورۂ حجرات میں چار باتیں یہ ہیں:

(1) نبی علیہ السلام کو پکارنے کے آداب

(2) افواہوں پر کان نہ دھرو۔

(3) ۔فضیلت کی چیز قومیت نہیں بلکہ تقوی ہے 

(4) چھ خرابیاں: 1۔ایک دوسرے کا مذاق اڑانا 2۔عیب لگانا 3۔برے ہقب سے پکارنا 4۔بد گمانی کرنا 5۔عیوب تلاش کرنے کی ٹوہ میں رہنا 6۔غیبت کرنا 


۔ ۔ ۔ 


(ہ) سورۂ ق میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) آخرت کا اثبات (2) قرآن کی عظمت

۔ ۔ ۔ 


(و) سورۂ ذاریات میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) قیامت کا ذکر (2) پچھلے واقعات


=======

پچیسواں پارہ

 پچیسواں پارہ

========


اس پارے میں پانچ حصے ہیں:


(الف) سورۂ حم سجدہ کے بقیہ حصے میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) قیامت (2) توحید


(ب) سورۂ شوری میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) وحی اور رسالت کا اثبات

(2) موممین کی آٹھ صفات:

۔۔۔۔۔۔۔(1) توکل کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(2) ۔گناہوں سے اجتناب کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(3) غصے میں درگزر کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(4) رب کی فرمانبرداری کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(5) نماز کی پابندی کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(6) ہرکام باہمی مشورے سے کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(7) سخاوت کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(8) ظلم کا بدلہ مناسب طریقے سے لینا


(ج) سورۂ زخرف میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) توحید (2) رسالت اور اس کے ضمن میں حضرت ابراہیم و موسیٰ علیہما السلام کے قصے۔


(د) سورۂ دخان میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) لیلۃ القدر کے فضائل (2) جنت اور دوزخ کے مناظر


(ہ) سورۂ جاثیہ میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) توحید (2) قیامت


=======

چوبیسواں پارہ

 چوبیسواں پارہ

=========


اس پارے میں تین حصے ہیں:

1. سورۂ زمر کا بقیہ حصہ

2. سورۂ مومن مکمل

3. سورۂ حم سجدہ کا اکثر حصہ


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


 پہلا حصہ


سورۂ زمر کے بقیہ حصے میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) توبہ کی دعوت (2)قیامت کا احوال

(1) توبہ کی دعوت: قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لاتقنطوا من رحمۃ اللہ 

(2) قیامت کا احوال: ثم نفخ فیہ اخری فاذا ہم قیام ینظرون 


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ مومن میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) حوامیم سبعہ: وہ سات سورتیں ہیں جنکی ابتداء حم کے لفظ سے ہوئی ہے ، سب سے پہلی یہی سورۂ مومن ہے ، باقی چھ اس کے فورا بعد میں یعنی حم سجدہ ، شوری ، زخرف ، دخان ، جاثیہ اور احقاف ، اہم بات یہ ہے کہ یہ جس ترتیب سے قرآن میں ہیں اسی ترتیب سے نازل ہوئی ہیں۔

(2) ایک مومن کا قصہ: جب موسی علیہ السلام کے قتل کے مشورے ہونے لگے تو ایک مومن مرد نے فرعون اور اس کی قوم کو خوب سمجھایا، مگر وہ نہ مانے، فرعون نے مذاقا کہا کہ ایک عمارت بناؤ ، میں اس پر چڑھ کر دیکھوں گا کہ موسی کا الہ ہے بھی سہی کہ نہیں، نتیجہ یہ نکلا کہ فرعون اللہ کے عذاب کا مستحق ٹھہرا۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


تیسرا حصہ


سورۂ حم سجدہ میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) عاد وثمود: قوم عاد بہت مضبوط قوم تھی ، مگر سرکش تھی، اسے ہوا کے عذاب سے اور اسی طرح قوم ثمود کو چیخ کے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔

(2) استقامت کے فضائل: استقامت والوں کو نہ خوف ہوگا نہ غم، ان کے لیے جنت کی بشارت ہے ، دنیا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت حاصل ہوتی ہے ، پھر ان میں بھی زیادہ قربل تحسین وہ ہیں جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں ، ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین۔


=======

تیسواں پارہ

 *تیسواں پارہ* *’’سورۃ النبا‘‘* الحمدللہ آج ہم تیسویں پارے کا خلاصہ پڑھنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، جس کی ابتدا سورئہ نباء سے ہوتی ہے جس می...