Sunday, April 23, 2023

تیسواں پارہ

 *تیسواں پارہ*


*’’سورۃ النبا‘‘*

الحمدللہ آج ہم تیسویں پارے کا خلاصہ پڑھنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، جس کی ابتدا سورئہ نباء سے ہوتی ہے جس میں قیامت کے متعلق کافروں کے شک اور تردد کی نفی کی گئی اوربتایا گیا کہ قیامت کا آنا یقینی ہے، قیامت کا نقشہ کھینچا گیا، سرکشوں کےلئے عذاب ہے جس میں اضافہ ہوتا رہے گا، نیک لوگوں کےلئے انعام و اکرام ہے، اس دن فرشتے میدان حشر میں صف باندھے کھڑے ہوں گے، بغیر اجازت کوئی بول نہ سکے گااور کفار تمنا کریں گے کاش، وہ مٹی ہوتے۔


*سورۃ النازعات:*

اس سورت میں بھی قیامت کا ذکر ہے اور کفار و مشرکین کا کہنا ہے کہ کیا مرنے کے بعد پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے، اگر ایسا ہوا تو یہ بہت افسوسناک ہے، جب کہ قیامت کے دن ان کے دل دھڑک رہے ہوں گے، دہشت، ذلت اور ندامت کی وجہ سے ان کی نظریں جھکی ہوں گی۔ فرعون کا ذکر کر کے بتایا کہ وہ بھی قیامت کا منکر تھا، اس کا انجام یاد رکھو اور جس دن یہ قیامت کو دیکھیں گے تو ان کو ایسا معلوم ہو گا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول دنیا میں رہے۔


*سورئہ عبس:*

رحمت عالمؐ ایک موقع پر سرداران قریش کو دعوت اسلام دینے میں مصروف تھے کہ آپؐ کے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ ابن مکتومؓ آ گئے اور انہوں نے آپؐ کی توجہ اپنی طرف پھیرنی چاہی جسے آپؐ نے ناپسند فرمایا، اس موقع پر سورئہ عبس نازل ہوئی جس میں نابینا صحابی کی دلجوئی اور توجہ دینے کا کہا گیا۔ قرآن نصیحت ہے، ناشکری نہیں کرنی چاہئے، ایمان والوں کے چہرے قیامت کے دن روشن، ہنسنے والے ہوںگے جب کہ کفر کرنے والوں کےچہرے سیاہ ہوں گے۔


*سورۃ التکویر*

قیامت کا منظر کھینچا گیا کہ کائنات کی کوئی بھی چیز محفوظ نہ ہو گی، سورج، ستارے، پہاڑ اور سمندر، ریت کے گھروندے ثابت ہوںگے، پھر اللہ تعالیٰ نے چار قسمیں کھا کر قرآن کی حقانیت ا ور نبی اکرمؐ کی نبوت و رسالت کو بیان فرمایا۔ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں بلکہ یہ اللہ کا کلام ہے جو تمام عالم کےلئے نصیحت ہے۔


*سورۃ الانفطار:*

قیامت میں کائنات کی جو حالت ہو گی اس کو بیان کر کے انسان سے شکوہ کیا گیا کہ کس چیز نے تجھے اپنے پروردگار کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے کہ اس کے احسانات بھلا کر معصیت اور ناشکری پر اتر آیا ہے۔

قیامت میں دو قسم کے لوگ برابر ہوں گے، یعنی نیک جن کا ٹھکانہ جنت ہے اور فجار یعنی نافرمان، ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔


*سورۃ المطففین:*

ناپ تول میں کمی و بیشی کرنے والے جن کے دینےکے پیمانے اور ہوتے ہیں، لینے کے پیمانے اور ہوتےہیں، اس طرح انسانوں کے حقوق غصب کرتے ہیں، ان کےلئے ہلاکت کی وعید ہے۔

قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کر کے بتایا گیا کہ دنیا میں مجرم اور سرکش نیک لوگوں کا مذاق اڑاتے تھے، قیامت میں نیک لوگ ان پر ہنسیں گے۔


*’’سورۃ انشقاق:‘‘*

قیامت کی ہولناکی کا ذکر ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا اور جب حساب لیا جائے گا تو کچھ لوگوں کو نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ خوش ہوں گے اور جنت میں جائیں گے اور جن کے نامہ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے دیئے جائیں گے وہ جہنم میں جائیں گے۔


*’’سورۃ البروج:‘‘*

نجران کے حق پسند اور عیسائی اہل ایمان کو یہودی ظالم بادشاہ ذونواس نے آگ سے بھرے گڑھے میں پھنکوا دیا، ساحر، راہب اور نوجوان لڑکے کا قصہ منقول ہے جس کی استقامت دیکھ کر ہزاروں لوگوں نے اسلام قبول کیا اور خندقوں والی دہکتی آگ میں ڈالے گئے، پھر فرمایا گیا کہ اللہ کی پکڑ بڑی شدید ہے، جب کوئی اس کے عذاب کی گرفت میں آ جائے تو بچ نہیں سکتا۔


*’’سورۃ الطارق:‘‘*

اللہ نے آسمان کی، اور رات کو چمکنے والے ستارے کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہر انسان پر نگہبان فرشتہ مقرر ہے، انسان اپنی تخلیق پر غور کرے، اللہ کی تدبیر کے مقابلے میں انسانی چال کچھ نہیں ہے، کفار کو ڈھیل دی جا رہی ہے 

بالآخر گرفت میں آئیں گے۔


*’’سورۃ الاعلیٰ:‘‘*

اللہ کی تسبیح و تحمید کر کے بتایا کہ انسان کو پرکشش صورت سے نواز کر ایمان و سعادت کا راستہ دکھایا، قرآن نصیحت ہے جوکہ یاد کرنےکےلئے آسان ہے، کامیابی کے تین اصول ہیں تزکیہ، ذکر الٰہی اور نماز جو ان پر کاربند ہو وہ کامیاب ہے، پہلے آسمانی صحیفوں میں بھی یہی ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ پر نازل ہوئے۔


*’’سورۃ الغاشیہ‘‘*

غاشیہ یعنی ڈھانپ لینے والی قیامت کا نام ہے کہ اس کی ساری ہولناکیاں مخلوق کو ڈھانپ لیں گی، اس دن کفارکےچہرے جھلسےہوںگے جب کہ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے، اونٹ، آسمان، پہاڑ اور زمین کی تخلیق پر غور کرو، آپؐ کے ذمے نصیحت کرنا ہے اور ہم حساب لیں گے۔


*’’سورۃ الفجر:‘‘*

فجر کے وقت، جفت و طاق، دس راتیں اور جب رات جانے لگے گواہ ہیں عاد، ثمود، فرعون تباہ ہوئے، یتیموں کے ساتھ ظلم اور حقارت، مسکینوں کی نہ خود مدد کرنا اور نہ ترغیب دینا، میراث غصب کرنا، مال کی محبت میں اندھا ہونا ان برائیوں میں مبتلا ہو کر انسان زمین پر فساد پھیلاتا ہے اور جہنم کا ایندھن بنتا ہے جب کہ نیک عمل لوگوں کے لئے جنت کی بشارت ہے۔


*’’سورۃ البلد‘‘*

چند قسموں کو ثبوت کے طورپر پیش کر کے کہا کہ آرام و راحت صرف قانون الٰہی کے مطابق زندگی گزارنے میں ہے، انسان کی شکرگزاری یہ ہے کہ انسانوں کو غلامی، قید سے چھڑائے، یتیموں، مسکینوں کی مدد کرنا، بھوکوں کو کھانا کھلانا اور آپس میں حق کی وصیت اور مشکلات پر صبر کرنا۔


*’’سُورَۃُالشمس‘‘*

سورج، چاند، دن، رات، آسمان، زمین اور نفس انسانی کی قسم کھا کر فرمایا کہ انسان اپنے رب سے ڈرے اور نفس کا تزکیہ کرے توکامیاب ہے ورنہ ناکام جس طرح قوم ثمود نے نافرمانی کی اور ہلاک ہوئی۔


*’’سورۃ اللیل‘‘*

جو لوگ قرآن کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، تقویٰ اختیار کرتے ہیں، بخل نہیں کرتے، اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں، وہ آخرت میں کامیاب ہیں اور اس کے برعکس لوگ ناکام ہیں، جہنم کا ایندھن ہیں۔


*’’سورۃ الضحٰی‘‘*

اللہ نے اپنے حبیبؐ سے قسم کھا کر فرمایا کہ آپؐ کے رب نے نہ تو آپؐ کو چھوڑا ہے اور نہ ناراض ہے، آپؐ کی آخرت بہتر ہے، اللہ آپؐ کو غنی کر دے گا، اللہ ہی نے آپ کو ٹھکانہ دیا، راستہ دکھایا تو یتیم پر سختی نہ کریں، سائل کو نہ جھڑکیں اور رب کی نعمتوں کا تذکرہ کریں۔


*سورۃ الانشراح:*

آپؐ کا سینہ کھول دیا، بوجھ اٹھا دیا اور آپؐ کا ذکر ہمیشہ کےلئے بلند کر دیا، شکر، عبادت اور اللہ کی طرف رغبت کریں۔


*سورۃ التین:*

چار قسمیں کھا کر فرمایا کہ انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا، ایمان اور اعمال صالحہ سے عظمت حاصل کرتا ہے جب کہ کفر اور تکذیب سے ذلت کی گہرائی میں گر جاتا ہے۔


*سورۃ العلق*

ابتدائی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہے جو آپؐ پر غار حرا میں نازل ہوئی، انسان کی تخلیق اور قرأت اور کتابت کے ذریعے تمام مخلوقات پر فضیلت کا ذکر ہے، مال اور دولت، غرور و سرکشی کا ذریعہ ہے، وقت کے فرعون ابوجہل کا ذکر ہے۔


*سورۃ البینہ:*

آپؐ کی ذات عالیہ خود رسالت کی ایک روشن دلیل ہے، کوئی عمل بغیر ایمان کے اور ایمان بغیر اخلاص کے معتبر نہیں، ہر نبی نے اپنی امت کو اسی بنیاد پر دعوت دی، کفر و شرک کرنے والےبدترین مخلوق ہیں، ہمیشہ جہنم میں رہیں گے جب کہ ایمان اور اعمال صالحہ والے بہترین مخلوق ہیں، ان کو جنت کی ابدی نعمتیں اور رب کی رضا ہے۔


*’’سورۃ الزلزال‘‘:*

قیامت اور خوفناک زلزلے کا ذکر ہے، زمین سب اگل دے گی، ذرہ بھر بھی نیکی ہویا بدی ظاہر ہو جائے گی۔


*سورۃ العادیات:*

گھوڑا اپنے مالک کا وفادار ہے جب کہ انسان ناشکرگزاری اور مال کی شدید محبت میں گرفتار ہے، موت کے بعد ساری ناشکریوں اور نافرمانیوں کی پاداش میں سخت سزا ہو گی۔


*سورۃ القارعہ‘‘:*

قیامت کی ہولناکی کا ذکر ہے، جن کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گا من پسند زندگی میں ہوں گے اور ہلکا ہو گا تو عذاب ہو گا۔


*سورۃ التکاثر:*

مال و دولت کی کثرت انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے جب کہ اسے نعمتوں کا جواب دینا ہے اور سزا بھگتنی ہے۔


*سورۃ العصر:*

ایمان، عمل صالح اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کرنے والوں کے علاوہ تمام لوگ خسار ے میں ہیں۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر پورا قرآن نازل نہ ہوتا تو بھی صرف یہ سورت انسانوں کی ہدایت کے لئے کافی تھی۔


*سورۃ الھمزہ:*

منہ پر برا بھلا کہنے والے، غیبت کرنے والے، مال و دولت سمیٹ سمیٹ کر جمع کرنے والوں کے لئے ہلاکت کی وعید ہے اور یہ لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔


*’’سورۃ الفیل:‘‘*

جس سال آپؐ کی ولادت باسعادت ہوئی اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا، اس کو عبرت کے طور پر بتایا کہ لوگ شعائراللہ کی توہین سے باز رہیں۔


*سورۃ القریش:*

قریش کو اللہ نے اپنی نعمتیں یاد دلائیں تاکہ خالص اللہ کی عبادت کریں جس نے ان کو عزت عطا کی، بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن عطا کیا۔


*’’سورۃ الماعون:‘‘*

روز جزا کو جھٹلانے والے، یتیموں کو دھکے دیتے ہیں، مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے، نماز سے غافل ہیں، ریاکاری کرتے ہیں، عام استعمال کی چیز مانگنے پر نہیں دیتے۔


*سورۃ الکافرون:*

آپؐ اعلان فرما دیں کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کر سکتے، ایمان اور کفر علیحدہ علیحدہ ہیں، تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین۔


*’’سورۃ النصر‘‘*

اس سورت میں بشارت ہے، خوشخبری ہے اللہ کی مدد کی، فتح مکہ کی لیکن اس موقع پر جشن نہیں منانا بلکہ اللہ کی حمد و تسبیح اور استغفار کرنا ہے۔


*ؕسورۃ اللہب*

ابولہب اور اس کی بیوی کی اسلام دشمنی کی وجہ سے ہلاک ہونے اور جہنم میں جانے کی وعید سنائی گئی ہے۔


*سورۃ الاخلاص:*

توحید کا سبق دیا گیا کہ اللہ ایک ہی ہے، وہ بے نیازہے، اولاد اور ماں باپ ہونے اور شریکوں سے پاک ہے اس کا کوئی ہمسر نہیں۔


*سورۃ الفلق:*

ہر قسم کی برائی سے اللہ کی پناہ میں آنا چاہئے خصوصاً مخلوق کے شر سے، اندھیرے کے شر سے، پھونکیں مارنے والیوں کے۔شر سے اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔


*سورۃ الناس:*

لوگوں کے پالنہار، لوگوں کے بادشاہ اور لوگوں کے معبود کی پناہ میں آیا جائے وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے چاہے وہ انسانوں میں سے ہو یا جنات میں سے ہو۔


*(اللہ تعالی ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے)*

انتیسواں پارہ

 انتیسواں پارہ

========


اس پارے میں کل گیارہ سورتیں ہیں:


(1) سورۂ ملک میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: توحید کا اثبات ، زمین ، آسمان ، موت ، حیات ، عزت ، ذلت ، زمینی و آسمانی مخلوقات کا خالق و مالک اللہ ہی ہے۔

ب: قیامت کو جھٹلانے والوں کا درد ناک انجام ، جہنم اس قدر جوش میں ہوگی ، یوں لگے گا کہ پھٹ پڑے گی۔


(2) سورۂ قلم میں تین باتیں یہ ہیں:

الف: قلم کی عظمت

ب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ کا بیان

ج: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کی اخلاقی پستی کو بیان کرتے ہوئے آپ کو ان کی بات ماننے سے منع فرمایا گیا ہے ، بالخصوص ولید بن مغیر کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ وہ زیادہ قسمیں کھانے والا ، کمینہ خصلت ، چغل خور ، بھلائی سے روکنے والا ، حد سے بڑھنے والا ، گنہگار ، اکھڑ مزاج اور اس کے علاوہ بد ذات ہے ، اس کی سرکشی کی وجہ یہ ہے کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے ، جب اسے آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں ، ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے


(3) سورۂ حاقہ میں تین باتیں یہ ہیں:

الف: قیامت سے پہلے کے ہولناک واقعات اور پھر قیامت کا تذکرہ ، جسے نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ خوشی خوشی سب کو دکھاتا پھرے گا کہ یہ دیکھو میرا نامۂ اعمال اور جسے بائیں ہاتھ نامۂ اعمال دیا جائے گا وہ تمنا کرے گا کہ کاش! مجھے یہ اعمال نامۂ دیا ہی نہ جاتا اور مجھے معلوم ہی نہ پڑتا کہ میرا حساب کیا ہے؟ کاش! موت نے میرا کام ہمیشہ کے لیے تمام کردیا ہوتا ، نہ مال کام آرہا ہے نہ دنیاوی غلبے۔

ب: بدبختوں کی دو علامتیں ہیں: ایک یہ کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور دوسری یہ کہ وہ مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے۔

ج: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی صداقت کا بیان کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہے۔


(4) سورۂ معارج میں چار باتیں یہ ہیں:

الف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ آپ سے استہزاءً پوچھ رہے ہیں کہ یہ کب آئے گا؟ آپ صبرِ جمیل سے کام لیجیے ، ان کی نظر میں یہ عذاب دور ہے ، مگر ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔

ب: قیامت کا تذکرہ کہ اس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگین روئی کی طرح ہوجائیں گے ، اس دن نہ کوئی دوست کام آئے گا نہ رشتہ دار۔

ج: انسان کے بارے میں بتایا ہے کہ یہ بڑا حریص اور جزع فزع کرنے والا ہے ، مصیبت میں چیخنے لگتا ہے ، مال ہاتھ آئے تو بخیل بن جاتا ہے۔

د: نماز پڑھنے والوں کی آٹھ صفات کا ذکر کرکے بتایا گیا کہ ایسے لوگوں کا جنت میں اکرام کیا جائے گا: (1) نماز کی پابندی (2) سخاوت (3) قیامت کی تصدیق (4) اللہ کے عذاب کا خوف (5) پاکدامنی (6) دیانت داری (7) سچی گواہی (8) نماز کو اس وقت میں ادا کرنا۔


(5) سورۂ نوح  

اس سورت میں حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ ، انھوں نے رات دن اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا ، مگر وہ ان سے بھاگتے رہے ، ان کی دعوت کے وقت اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیا کرتے تھے ، تکبر کرتے تھے ، حضرت نوح علیہ السلام نے انھیں اللہ سے معافی مانگنے کو کہا اور بتایا کہ استغفار کرنے سے بارانِ رحمت برسے گی ، خوب مال اور نرینہ اولاد عطا ہوگی ، باغات اور نہروں کا حصول ہوگا ، انھوں نے ان کے سامنے اللہ کی صفات بیان کی کہ تہ بہ تہ سات آسمان ، چمکتے دمکتے شمس و قمر ، کھیتیاں سب کو بنانے والا اللہ ہی ہے ، ہمیں دوبارہ اسی کے پاس جانا ہے ، مگر قوم نے ایک نہ مانی ، بالآخر اللہ نے ان سب کو غرق کردیا ، آخر میں حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ سے ایک بہت پیاری دعا مانگی: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا


(6) سورۂ جن میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: جنات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کو سن کر اسلام قبول کرنا اور اپنی قوم کو جاکر اس کی دعوت دینے کا واقعہ مذکور ہے۔ 

ب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے حکم دیا کہ کہہ دیجیے کہ اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی شریک نہیں ٹھہراتا ، نہ تمھارا کوئی نقصان میرے اختیار میں ہے نہ بھلائی ، اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے ، میرا کام پہنچانا ہے ، اب جو اللہ اور رسول کا نافرمان ہوگا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ کا مستحق ہوگا۔


(7) سورۂ مزمل میں سات باتیں یہ ہیں:

الف: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیار بھرا خطاب: "اے چادر میں لپٹنے والے"

ب: تہجد کا حکم اور ترغیب

ج: اللہ کے ذکر کا حکم

د: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کہ آپ کافروں کی باتوں پر صبر کیجیے اور ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجیے۔

ہ: فرعون کی نافرمانی کا تذکرہ

و: قرآن کو جہاں سے سہولت ہو پڑھنے کا حکم۔

ز: نماز ، زکوۃ اور استغفار کا حکم


(8) سورۂ مدثر میں پانچ باتیں یہ ہیں:

الف: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیار بھرا خطاب: "اے چادر میں لپٹنے والے"

ب: انذار ، تکبیر ، تطہیراور صبر کا حکم اور اس بات کا بھی کہ زیادہ پانے کی نیت سے احسان نہ کیا جائے۔

ج: قیامت کا تذکرہ۔

د: ولید بن مغیر کا تذکرہ جس نے یہ رائے دی تھی کہ قرآن کی آیات کو جادو اور بشر کا کلام کہا جائے ، اللہ نے فرمایا کہ اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ، اسے میں نے پیدا کیا ، خوب مال اور نرینہ اولاد عطا کیے ، کاموں کے راستے ہموار کیے مگر اس کی لالچ بڑھتی رہی ، ہماری آیتوں کا دشمن بن گیا ، ہم عن قریب اسے جہنم رسید کریں گے۔

ہ: جنت اور جہنم کے احوال۔


(9) سورۂ قیامہ میں تین باتیں یہ ہیں:

الف: قیامت کا تذکرہ

ب: قرآن کی حفاظت کا ذمہ 

ج: تخلیق انسان کے مراحل


(10) سورۂ دہر میں چار باتیں یہ ہیں:

الف: تخلیق انسان

ب: انسانوں کی دو قسمیں ہیں: شکرگزار اور ناشکرے

ج: آخرت میں کافروں کے لیے زنجیریں ، گلے کے طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔

د: وہ لوگ جو نیک ہیں ، منتیں پوری کرتے ہیں ، روزِ آخرت سے ڈرتے ہیں ، مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں ، ان کے لیے جنت کی نعمتیں ہیں ، من جملہ ان کے کافور کی آمیزش والے مشروبات ہوں گے ، ایک ایسے چشمے سے جسے وہ جہاں چاہیں گے بہاکر لے جائیں گے ، باغات ہوں گے ، ریشمی ملبوسات ہوں گے ، وہ وہاں آرام دہ اونچی نشستوں پر بیٹھے ہوں گے ، نہ دھوپ کی تپش نہ کڑاکے کی سردی ، چاندی کے برتن ہوں گے ، توازن کے ساتھ بھرے ہوئے شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے ، سونٹھ ملا جام ہوگا ، سلسبیل نام کے چشمے ہوں گے ، بکھیرے ہوئے موتیوں جیسے خدمت گار لڑکے ہوں گے جو کبھی بوڑھے نہ ہوں گے ، نعمتوں کا ایک جہان ہوگا ، ایک بڑی سلطنت ہوگی ، باریک اور دبیز ریشم کے ملبوسات انھیں پہنائے جائیں گے ، چاندی کے کنگنوں سے آراستہ کیا جائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پروردگار انھیں پاکیزہ شراب پلائے گا۔


(11) سورۂ مرسلات میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: قیامت کا تذکرہ ، جنتیوں اور جہنمیوں کا ذکر

ب: اس سورت میں اللہ نے گیارہ بار مکذبینِ قیامت کے لیے ہلاکت کا اعلان فرمایا ہے۔


=======

اٹھائیسواں پارہ

 اٹھائیسواں پارہ

========


اس پارے میں کل 9 سورتیں ہیں:


(1) سورۂ مجادلہ میں چار باتیں یہ ہیں:

الف: ظہار کے احکام و مسائل

ظہار (یعنی اپنی بیوی کو ماں کی طرح حرام کہنے) سے مرد پر کفارہ واجب ہوجاتا ہے ، کفارہ ادا کرنے سے پہلے وہ بیوی کے ساتھ ہمبستری نہیں کرسکتا ، کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کیا جائے ، اگر اس کی سہولت نہ ہو تو دو مہینے مسلسل روزے رکھے جائیں اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کے طعام کا بندوبست کرلیا جائے۔

ب: فتنہ و فساد پر مشتمل سرگوشی کی مذمت اور نیکی اور تقوی کی سرگوشی کی ترغیب 

ج: مجلس کے آداب میں سے ہے کہ جب وسعت طلب کی جائے تو وسعت پیدا کی جائے اور جب مجلس سے اٹھ جانے کو کہا جائے تو اٹھ جانا چاہیے۔

د: منافقین کی مذمت


(2) سورۂ حشر میں چار باتیں یہ ہیں:

الف: بنو بضیر کی جلاوطنی کے حالات بتاکر اللہ کی قدرت کو بیان کیا گیا ہے۔

ب: مال غنیمت کے احکام

ج: مہاجرین وانصار کا تذکرہ

د: منافقین کی مذمت


(3) سورۂ ممتحنہ میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: کفار سے دوستی نہ لگاؤ۔

ب: جوعورتیں ہجرت کرکے آجائیں ان کے ایمان کا امتحان لے کر اگر مطمئن ہوجاؤ تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔


(4) سورۂ صف میں تین باتیں یہ ہیں:

الف: جہاد و قتال

ب: بنی اسرائیل کا ذکر

ج: وہ تجارت جس سے دنیا و آخرت کا نفع ہو۔


(5) سورۂ جمعہ میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: یہود کی مذمت

ب: نماز جمعہ کی فرضیت و آداب


(6) سورۂ منافقون

اس سورت میں منافقین کی مذمت اور ان کے اوصاف رذیلہ کا بیان ہے۔


(7) سورۂ تغابن

اس سورت میں یوم التغابن یعنی قیامت کا ذکر ہے۔


(8) سورۂ طلاق میں دو باتیں یہ ہیں:

الف: طلاق کے احکام

ب: اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے فضائل


(9) سورۂ تحریم

الف: ازواج مطہرات سے متعلق بعض احکام

ب: پچھلی اچھی اور بری عورتوں کا ذکر ، اچھی عورت یعنی مرعون کی بیوی اور بری عورتیں یعنی نوح اور لوط علیہما اسلام کی بیویاں۔


=======

ستائسواں پارہ

 ستائسواں پارہ

========


اس پارے میں سات حصے ہیں:


(1) سورۂ ذاریات:

الف: فرعون ، قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم نوح کا انجام

ب: جن و انس کی تخلیق کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت ہے۔


(2) سورۂ طور:

الف: جنت کی نعمتوں اور جہنم کی ہولناکیوں کا ذکر ہے۔

ب: مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کاہن ، مجنون اور شاعر کہتے تھے ، ان کی تردید کی گئی اور انھیں انتظار کو کہا گیا۔

ج: توحید کا اثبات اور دلائل


(3) سورۂ نجم:

الف: واقعۂ معراج

ب: قیامت کا ذکر

ج: اللہ تعالیٰ کی صفات


(4) سورۂ قمر:

الف: قیامت کا ذکر

ب: شق القمر کا معجزہ

ج: قوموں کے احوال


(5) سورۂ رحمٰن:

اس سورت میں دنیا اور آخرت کی نعمتوں کا ذکر ہے۔


(6) سورۂ واقعہ:

الف: روز قیامت انسانی گروہ کی تین اقسام ، اصحاب الیمین ، اصحاب الشمال اور سابقین مقربین


(7) سورۂ حدید:

الف: اللہ تعالیٰ کی قدرت اورصفات

ب: اللہ کی راہ میں جان ومال لگانے کی ترغیب

ج:  دنیا کی بے ثباتی


=======

چھبیسواں پارہ

 چھبیسواں پارہ

========


اس پارے میں چھ حصے ہیں:


(الف) سورۂ احقاف میں تین باتیں یہ ہیں:

(1) قرآن کی حقانیت 

(2) نیک اور نافرمان اولاد کا ذکر

(3) قوم عاد کا ذکر


۔ ۔ ۔ 


(ب) سورۂ محمد میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) جہاد وقتال (2) جنت

۔ ۔ ۔ 


(ج) سورۂ فتح میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) صلح حدیبیہ (2) صحابہ کی تعریف

۔ ۔ ۔ 


(د) سورۂ حجرات میں چار باتیں یہ ہیں:

(1) نبی علیہ السلام کو پکارنے کے آداب

(2) افواہوں پر کان نہ دھرو۔

(3) ۔فضیلت کی چیز قومیت نہیں بلکہ تقوی ہے 

(4) چھ خرابیاں: 1۔ایک دوسرے کا مذاق اڑانا 2۔عیب لگانا 3۔برے ہقب سے پکارنا 4۔بد گمانی کرنا 5۔عیوب تلاش کرنے کی ٹوہ میں رہنا 6۔غیبت کرنا 


۔ ۔ ۔ 


(ہ) سورۂ ق میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) آخرت کا اثبات (2) قرآن کی عظمت

۔ ۔ ۔ 


(و) سورۂ ذاریات میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) قیامت کا ذکر (2) پچھلے واقعات


=======

پچیسواں پارہ

 پچیسواں پارہ

========


اس پارے میں پانچ حصے ہیں:


(الف) سورۂ حم سجدہ کے بقیہ حصے میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) قیامت (2) توحید


(ب) سورۂ شوری میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) وحی اور رسالت کا اثبات

(2) موممین کی آٹھ صفات:

۔۔۔۔۔۔۔(1) توکل کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(2) ۔گناہوں سے اجتناب کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(3) غصے میں درگزر کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(4) رب کی فرمانبرداری کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(5) نماز کی پابندی کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(6) ہرکام باہمی مشورے سے کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(7) سخاوت کرنا

۔۔۔۔۔۔۔(8) ظلم کا بدلہ مناسب طریقے سے لینا


(ج) سورۂ زخرف میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) توحید (2) رسالت اور اس کے ضمن میں حضرت ابراہیم و موسیٰ علیہما السلام کے قصے۔


(د) سورۂ دخان میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) لیلۃ القدر کے فضائل (2) جنت اور دوزخ کے مناظر


(ہ) سورۂ جاثیہ میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) توحید (2) قیامت


=======

چوبیسواں پارہ

 چوبیسواں پارہ

=========


اس پارے میں تین حصے ہیں:

1. سورۂ زمر کا بقیہ حصہ

2. سورۂ مومن مکمل

3. سورۂ حم سجدہ کا اکثر حصہ


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


 پہلا حصہ


سورۂ زمر کے بقیہ حصے میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) توبہ کی دعوت (2)قیامت کا احوال

(1) توبہ کی دعوت: قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لاتقنطوا من رحمۃ اللہ 

(2) قیامت کا احوال: ثم نفخ فیہ اخری فاذا ہم قیام ینظرون 


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ مومن میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) حوامیم سبعہ: وہ سات سورتیں ہیں جنکی ابتداء حم کے لفظ سے ہوئی ہے ، سب سے پہلی یہی سورۂ مومن ہے ، باقی چھ اس کے فورا بعد میں یعنی حم سجدہ ، شوری ، زخرف ، دخان ، جاثیہ اور احقاف ، اہم بات یہ ہے کہ یہ جس ترتیب سے قرآن میں ہیں اسی ترتیب سے نازل ہوئی ہیں۔

(2) ایک مومن کا قصہ: جب موسی علیہ السلام کے قتل کے مشورے ہونے لگے تو ایک مومن مرد نے فرعون اور اس کی قوم کو خوب سمجھایا، مگر وہ نہ مانے، فرعون نے مذاقا کہا کہ ایک عمارت بناؤ ، میں اس پر چڑھ کر دیکھوں گا کہ موسی کا الہ ہے بھی سہی کہ نہیں، نتیجہ یہ نکلا کہ فرعون اللہ کے عذاب کا مستحق ٹھہرا۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


تیسرا حصہ


سورۂ حم سجدہ میں دو باتیں یہ ہیں:

(1) عاد وثمود: قوم عاد بہت مضبوط قوم تھی ، مگر سرکش تھی، اسے ہوا کے عذاب سے اور اسی طرح قوم ثمود کو چیخ کے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔

(2) استقامت کے فضائل: استقامت والوں کو نہ خوف ہوگا نہ غم، ان کے لیے جنت کی بشارت ہے ، دنیا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت حاصل ہوتی ہے ، پھر ان میں بھی زیادہ قربل تحسین وہ ہیں جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں ، ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین۔


=======

تیئیسواں پارہ

 تیئیسواں پارہ​

=========


اس پارے میں چار حصے ہیں:

۱۔ سورۂ یٰس (بقیہ حصہ)

۲۔ سورۂ صافات (مکمل)

۳۔ سورۂ ص (مکمل)

۴۔ سورۂ زمر (ابتدائی حصہ)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ یٰس کے بقیہ حصے میں تین باتیں یہ ہیں:

۱۔ حبیب نجار کا قصہ (ایک بستی والوں نے اپنے تین انبیاء کو جھٹلایا ، ان کی قوم کے ایک شخص (جس کا نام حبیب نجار تھا) نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی تو انھوں نے اسے شہید کردیا ، جنت میں جاکر بھی اس نے تمنا کی کہ کاش! میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ مجھے کیسی نعمتیں ملی ہیں۔)

۲۔ اللہ کی قدرت کے دلائل: (الف) مردہ زمین جسے بارش سے زندہ کردیا جاتا ہے۔ (ب) لیل و نہار اور شمس و قمر کا نظام۔ (ج) ۔کشتیاں اور جہاز جو سمندر میں چلتے ہیں۔)

۳۔ قیامت (محشر کی ہولناکیاں ، صور پھونکے جانے کا تذکرہ ، اس دن مجرموں کے منہ پر مہر لگادی جائے گی اور ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے۔)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ صافات میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ جہنمیوں کا باہم لعن طعن اور جنتیوں کا خوشگوار مکالمہ

۲۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے (حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوتِ توحید ، انھیں بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم اور اس کی تعمیل ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا قصہ ، حضرت الیاس علیہ السلام کا قصہ جنھیں شام میں ایک ایسی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا تھا جو "بعل" نامی بت کی عبادت کرتی تھی، حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی شہوت پرستی کا قصہ ، حضرت یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ میں جانے کا قصہ۔)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


تیسرا حصہ


سورۂ ص میں دو باتیں یہ ہیں:​

۱۔ توحید (تمام انسانوں اور موت و حیات کے پورے نظام کے لیے ایک اللہ ہی کافی ہے۔)

۲۔ رسالت (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ، قریش کی مذمت ، تسلی کے طور پر حضرت داؤد علیہ السلام کے شکر کا قصہ اور حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کا قصہ اور دیگر انبیائے کرام کے قصے)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


چوتھا حصہ


سورۂ زمر کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ قرآن کی عظمت

۲۔ توحید: (الف) اللہ تعالیٰ انسان کو ماں کے پیٹ میں تین تاریکیوں میں پیدا فرماتے ہیں۔ (ب) مشرک کی مثال اس غلام کی سی ہے جس کے کئی آقا ہوں اور موحد کی مثال اس غلام کی سی ہے جس کا ایک ہی آقا ہو۔ )


=======

تحریر: محمد اسامہ سَرسَری

طالب دعا: محمد مسلم

بائیسواں پارہ

 بائیسواں پارہ​

========


اس پارے میں چار حصے ہیں:

۱۔ سورۂ احزاب (بقیہ حصہ)

۲۔ سورۂ سبا (مکمل)

۳۔ سورۂ فاطر (مکمل)

۴۔ سورۂ یٰس (ابتدائی حصہ)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ احزاب کے بقیہ حصے میں چار باتیں یہ ہیں:


۱۔ ازواج مطہرات کے لیے سات احکام :

۔۔۔۔ 1۔نزاکت کے ساتھ بات نہ کریں۔

۔۔۔۔ 2۔ بلا ضرورت گھر سے نہ نکلیں۔

۔۔۔۔ 3۔ زمانۂ جاہلیت کی خواتین کی طرح اپنی زینت اور ستر کا اظہار کرتے ہوئے باہر نہ نکلیں۔

۔۔۔۔ 4۔ نماز کی پابندی کریں۔

۔۔۔۔ 5۔ زکوٰۃ ادا کریں۔

۔۔۔۔ 6۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں۔

۔۔۔۔ 7۔ قرآنی آیات کی تلاوت اور احادیث کا مذاکرہ کیا کریں۔


۲۔ مسلمانوں کی دس صفات پر مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ:

اسلام ، ایمان ، فرمانبرداری ، راست گوئی ، صبر ، خشوع ، انفاق ، روزہ ، پاکدامنی ، کثرتِ ذکر


۳۔ نکاحِ رسول: جب حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور آپ کی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے درمیان نباہ نہ ہوسکا اور ان کے درمیان جدائی واقع ہوگئی تو اللہ کے حکم سے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کرلیا۔


۴۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا حکم


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ سبا میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کا قصہ

۲۔ اہل سبا کے غرور و تکبر کا واقعہ


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


تیسرا حصہ


سورۂ فاطر میں دو باتیں یہ ہیں:​

۱۔ توحید کے دلائل

۲۔ مسلمانوں کے تین گروہ ہیں: (1) وہ مسلمان جن کے گناہ زیادہ ہوں (2) وہ مسلمان جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہیں۔ (3) وہ مسلمان جن کی نیکیاں زیادہ ہوں۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


چوتھا حصہ


سورۂ یٰس کے ابتدائی حصے میں تین باتیں یہ ہیں:

۱۔ رسالت

۲۔ قریش کی مذمت

۳۔ حبیب نجار کا قصہ (اس کی کچھ تفصیل اگلی قسط میں ذکر کی جائے گی۔)


======

اکیسواں پارہ

 اکیسواں پارہ​

========


اس پارے میں پانچ حصے ہیں:

۱۔ سورۂ عنکبوت (بقیہ حصہ)

۲۔ سورۂ روم (مکمل)

۳۔ سورۂ لقمان (مکمل)

۴۔ سورۂ سجدہ (مکمل)

۵۔ سورۂ احزاب (ابتدائی حصہ)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ عنکبوت کے بقیہ حصے میں چار باتیں یہ ہیں:

۱۔ تلاوت اور نماز کا حکم

۲۔ نماز کی فضیلت (کہ یہ برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے)

۳۔ کفار کی ہٹ دھرمی کا ذکر

۴۔ دنیا کی بے ثباتی


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ روم میں دو باتیں یہ ہیں:


۱۔ دو پیش گوئیاں:

۔۔۔۔ 1۔ نو سال کے اندر اندر روم کے اہل کتاب (عیسائی) ایران کے بت پرستوں کو شکست دے دیں گے۔

۔۔۔۔ 2۔ اسی عرصے میں مسلمان مشرکینِ قریش پر فتح کی خوش منارہے ہوں گے۔ (یہ بدر کی صورت میں ظاہر ہوئی)


۲۔ توحید کے ضمن میں اللہ کی عظمت کی سات نشانیاں:

۔۔۔۔ 1۔اشیاء کو اضداد سے پیدا کرنا (زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے)

۔۔۔۔ 2۔ انسان کی پیدائش مٹی سے

۔۔۔۔ 3۔ زوجین کی محبت

۔۔۔۔ 4۔ زمین و آسمان کی پیدائش

۔۔۔۔ 5۔ رات اور دن کی نیند اور روزگار کی تلاش

۔۔۔۔ 6۔ بجلی کی چمک ، بارش اور اس سے غلے کی پیداوار

۔۔۔۔ 7۔ زمین اور آسمان کا مستحکم نظام


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


تیسرا حصہ


سورۂ لقمان میں تین باتیں یہ ہیں:​


۱۔ توحید (اللہ کی قدرت کے چار دلائل)

۔۔۔۔ 1۔ بغیر ستون کا آسمان

۔۔۔۔ 2۔ مضبوط و محکم پہاڑ

۔۔۔۔ 3۔ رینگنے والے مویشی اور حشرات

۔۔۔۔ 4۔ برسنے والی بارش


۲۔ حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو وصیتیں:

۔۔۔۔ شرک نہ کرو۔

۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہر چھوٹی بڑی چیز اور عمل کو آخرت میں سامنے لے آئیں گے۔

۔۔۔۔ نماز ، امر بالمعروف ، نہی عن المنکر اور آزمائش میں صبر کو اختیار کرو۔

۔۔۔۔ عاجزی اختیار کرو ، تکبر سے بچو۔

۔۔۔۔ معتدل چلو ، مناسب آواز میں بات کرو۔


۳۔ توحید کے ضمن میں یہ بتایا گیا کہ پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے:

۔۔۔۔ 1۔ قیامت کب آئے گی؟

۔۔۔۔ 2۔ بارش کہاں اور کتنی برسے گی؟

۔۔۔۔ 3۔ پیٹ میں بچہ کن اوصاف کا حامل ہے؟

۔۔۔۔ 4۔ انسان کل کیا کرے گا؟

۔۔۔۔ 5۔ موت کب اور کہاں آئے گی؟


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


چوتھا حصہ


سورۂ سجدہ میں چار باتیں یہ ہیں:

۱۔ قرآن کی عظمت

۲۔ توحید (آسمان و زمین کا خالق وہی ہے ، ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے، پانی کے ایک حقیر قطرے سے مختلف مراحل طے کرانے کے بعد انسان کو وجود بخشا پھر اسے انتہائی پر کشش صورت اور متناسب قدوقامت والا بنایا۔)

۳۔ قیامت (مجرم اس دن سرجھکائے کھڑے ہوں گے، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی ، وہ دنیا میں واپس آنے کی تمنا کریں گے، مومنین جو دنیا میں اللہ کے لیے اپنی راحتوں کو قربان کرتے ہیں ، اللہ نے آخرت میں ان کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جنھیں کوئی نہیں جانتا۔)

۴۔ رسالت (حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات دیے جانے کا ذکر ہے۔)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پانچواں حصہ


سورۂ احزاب کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:


۱۔ زمانۂ جاہلیت کے تین غلط خیالات کی تردید کی گئی ہے:

۔۔۔۔ 1۔ ان کا خیال تھا کہ بعض لوگوں کے سینوں میں دو دل ہوتے ہیں ، بتایا کہ دل تو بس ایک ہی ہوتا ہے ، یا اس میں ایمان ہوگا ، یا کفر ہوگا۔

۔۔۔۔ 2۔ کلماتِ ظہار کہنے سے بیوی ماں کی طرح حرام نہیں ہوجاتی۔

۔۔۔۔ 3۔ منہ بولا بیٹا شرعی احکام میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا۔


۲۔ دو غزووں (غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنی قریظہ) کا ذکر ہے۔

بیسواں پارہ

 بیسواں پارہ​

========


اس پارے میں تین حصے ہیں:

۱۔ سورۂ نمل (بقیہ حصہ)

۲۔ سورۂ قصص (مکمل)

۳۔ سورۂ عنکبوت (ابتدائی حصہ)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ نمل کے بقیہ حصے میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ توحید کے پانچ دلائل

(1) آسمان ، زمین ، بارش اور کھیتیوں کا خالق وہی ہے۔

(2) زمین ، نہریں ، پہاڑ اور سمندروں کا نظام وہی چلاتا ہے۔

(3) مجبور ، بے بس اور بیمار کی پکار اس کے علاوہ کوئی نہیں سنتا۔

(4) بحری اور بری تاریکیوں میں راستہ وہی دکھاتا ہے ، اسی نے ہواؤں کا نظام چلایا۔

(5) پہلی بار بھی اسی نے پیدا کیا ، دوبارہ بھی وہی پیدا کرے گا ، رازق بھی وہی ہے۔


۲۔ قیامت (صور پھونکا جانا ، پہاڑوں کا کا بادلوں کی طرح ہواؤں میں اڑنا ، روز قیامت سب کا جمع ہونا ، نیک لوگوں کو ان کی اچھائیوں کا انعام اور برے لوگوں کو ان کے کیے کی سزا کا ملنا۔)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ قصص میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا تفصیلی قصہ

۲۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قارون کا قصہ


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


تیسرا حصہ


سورۂ عنکبوت کے ابتدائی حصے میں تین باتیں یہ ہیں:​

۱۔ توحید (مشرکین کے بت مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہیں۔)

۲۔ رسالت (آزمائش من جانب اللہ ضرور آتی ہے ، اس ضمن میں چند انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے مذکور ہیں۔)

۳۔ قیامت کا تذکرہ


=======

انیسواں پارہ

 انیسواں پارہ​

========


اس پارے میں تین حصے ہیں:

۱۔ سورۂ فرقان (بقیہ حصہ)

۲۔ سورۂ شعراء (مکمل)

۳۔ سورۂ نمل (ابتدائی حصہ)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ فرقان کے بقیہ حصے میں چار باتیں یہ ہیں:

1۔ قیامت

2۔ توحید (آسمان ، زمین اور رات دن کا خالق اللہ ہی ہے۔)

3۔ رسالت (نبی کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔)

4۔ عباد الرحمٰن کی صفات (عاجزی سے چلنا ، جاہلوں سے اعراض ، راتوں کو عبادت ، جہنم کے عذاب سے پناہ مانگنا ، خرچ کرنے میں اعتدال ، نہ فضول خرچی نہ بخل ، شرک سے اجتناب ، قتل ناحق سے بچنا ، زنا اور بدکاری سے دور رہنا ، جھوٹی گواہی سے احتراز ، بری مجالس سے پہلوتہی ، کتاب اللہ سے متاثر ہونا ، نیک بیوی بچوں کی دعا اور یہ دعا کہ ہمیں ہادی اور مہتدی بنا۔)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ شعراء میں تین باتیں یہ ہیں:

۱۔ سات انبیائے کرام کے قصے (حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ہود علیہ السلام ، حضرت صالح علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت شعیب علیہ السلام)

۲۔ قرآن کی حقانیت: (اسے رب العالمین نے اتارا ہے ، روح الامین حضرت جبرائیل علیہ السلام کے واسطے سے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر ، لوگوں کو ڈرانے اور متنبہ کرنے کے لیے ، واضح عربی زبان میں۔)

۳۔ شعراء کی مذمت کہ ان کے پیچھے تو بے راہ لوگ چلتے ہیں ، یہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ،ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں ، البتہ وہ لوگ مستثنی ہیں جو ایمان لائے اور نیک اعمال اختیار کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


تیسرا حصہ


سورۂ نمل کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:​

(۱) قرآن کی عظمت

(۲) پانچ انبیائے کرام کا ذکر: (حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت سلیمان علیہ السلام ، حضرت صالح علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام۔ بالخصوص واقعۂ نمل ، واقعۂ ہدہد اور واقعۂ ملکہ سبا)


=======

اٹھارھواں پارہ

 اٹھارھواں پارہ​

=========


اس پارے میں تین حصے ہیں:

۱۔ سورۂ مؤمنون (مکمل)

۲۔ سورۂ نور (مکمل)

۳۔ سورۂ فرقان (ابتدائی حصہ)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ مؤمنون میں سات باتیں یہ ہیں:

۱۔ استحقاقِ جنت کی سات صفات

۲۔ تخلیقِ انسان کے نو مراحل

۳۔ توحید

۴۔ انبیاء کے قصے

۵۔ نیک لوگوں کی چار صفات

۶۔ نہ ماننے والوں کے انکار کی اصل وجہ

۷۔ قیامت


۔ ۔ ۔ 


۱۔ استحقاقِ جنت کی سات صفات:

(۱)ایمان ، (۲)نماز میں خشوع ، (۳)اعراض عن اللغو ، (۴)زکوۃ ، (۵)پاکدامنی ، (۶)امانت داری ، (۷)نمازوں کی حفاظت۔


۔ ۔ ۔ 


۲۔ تخلیقِ انسان کے نو مراحل:

(۱)مٹی (۲)منی (۳)جما ہوا خون (۴)لوتھڑا (۵)ہڈی (۶)گوشت کا لباس (۷)انسان (۸)موت (۹)دوبارہ زندگی


۔ ۔ ۔ 


۳۔ توحید:

آغازِ سورت میں توحید کے تین دلائل ہیں: (۱)آسمانوں کی تخلیق ، (۲)بارش اور غلہ جات ، (۳)چوپائے اور ان کے منافع۔


۔ ۔ ۔ 


۴۔ انبیائے کرام کے قصے:

(۱) حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی کشتی کا ذکر۔

(۲) حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا ذکر۔

(۳) حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم کا تذکرہ۔


۔ ۔ ۔ 


۵۔ نیک لوگوں کی چار صفات:

(۱) اللہ سے ڈرتے ہیں ، (۲)اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، (۳)شرک اور ریا نہیں کرتے ، (۴)نیکیوں کے باوصف دل ہی دل میں ڈرتے ہیں کہ انھیں اللہ کے پاس جانا ہے۔


۔ ۔ ۔ 


۶۔ نہ ماننے والوں کے انکار کی اصل وجہ:

ان کے انکار کرنے اور جھٹلانے کی نہ یہ وجہ ہے کہ آپ کوئی ایسی نئی بات لے کر آئے ہیں جو پچھلے انبیائے کرام لے کر نہ آئے ہوں ، نہ آپ کے اعلیٰ اخلاق ان لوگوں سے پوشیدہ ہیں ، اور نہ یہ سچ مچ آپ کو (معاذاللہ) مجنون سمجھتے ہیں اور نہ ان کے انکار کی یہ وجہ ہے آپ ان سے معاوضہ مانگ رہے ہیں۔ اصل وجہ اس کے برعکس یہ ہے کہ حق کی جو بات آپ لے کر آئے ہیں، وہ ان کی خواہشات کے خلاف ہے ، اس لیے اسے جھٹلانے کے مختلف بہانے بناتے رہتے ہیں۔


۔ ۔ ۔ 


۷۔ قیامت:

روزِ قیامت جس کے اعمال کا ترازو وزنی ہوگا وہ کامیاب ہے اور جس کے اعمال کا ترازو ہلکا ہوگا وہ ناکام ہے۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


(۲) سورۂ نور میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ سولہ احکام و آداب

۲۔ اہل حق اور اہل باطل کی تین مثالیں


۔ ۔ ۔ 


۱۔ سولہ احکام و آداب:​

1. زانی اور زانیہ کی سزا سو کوڑے ہیں۔ (احادیث سے ثابت ہے کہ یہ حکم غیرشادی شدہ کے لیے ہے)

2. بدکار مرد یا عورت کو نکاح کے لیے پسند کرنا مسلمانوں پر حرام ہے۔

3. عاقل ، بالغ ، پاکدامن مرد یا عورت پر بغیر گواہوں کے زنا کی تہمت لگانے والے کی سزا اسی کوڑے ہیں۔

4. میاں بیوی کے لیے بجائے گواہوں کے لعان کا حکم ہے۔

5. جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بعض منافقین نے بہتان باندھا جو کہ بہت بڑا بہتان تھا ، مسلمانوں کی روحانی ماں پر لگایا گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے دس آیات میں اس واقعے کا ذکر فرمایا ہے ، ان آیات میں منافقین کی مذمت ہے اور مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ آئندہ کبھی اس قسم کی بہتان تراشی میں حصے دار نہ بنیں اور حرمِ نبوت کی عفت و عصمت کا اعلان فرمایا گیا۔

6. کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کریں ، اجازت سے پہلے سلام بھی کرلینا چاہیے۔

7. آنکھوں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

8. نکاح کی ترغیب۔

9. جو غلام یا باندی کچھ روپیہ پیسہ ادا کرکے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہوں ان کے ساتھ یہ معاہدہ کرلیا کریں۔

10. باندیوں کو اجرت کے بدلے زنا پر مجبور نہ کریں۔

11. چھوٹے بچوں اور گھر میں رہنے والے غلاموں اور باندیوں کو حکم ہے کہ اگر وہ نماز فجر سے پہلے ، دوپہر کے قیلولے کے وقت اور نماز عشاء کے بعد تمھارے خلوت والے کمرے میں داخل ہوں تو اجازت لے کر داخل ہوں ، کیونکہ ان تین اوقات میں عام طور پر عمومی استعمال کا لباس اتار کر نیند کا لباس پہن لیا جاتا ہے۔

12. بچے جب بالغ ہوجائیں تو دوسرے بالغ افراد کی طرح ان پر بھی لازم ہے کہ وہ جب بھی گھر میں آئیں تو اجازت لے کر یا کسی بھی طریقے سے اپنی آمد کی اطلاع دے کر آئیں۔

13. وہ عورتیں جو بہت بوڑھی ہوجائیں اور نکاح کی عمر سے گزر جائیں اگر وہ پردے کے ظاہری کپڑے اتار دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

14. گھر میں داخل ہوکر گھر والوں کو سلام کریں۔

15. اجازت کے بغیر اجتماعی مجلس سے نہ اٹھیں۔

16. اللہ کے رسول کو ایسے نہ پکاریں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں۔


۔ ۔ ۔ 


۲۔ اہل حق اور اہل باطل کی تین مثالیں:


پہلی مثال میں مومن کے دل کے نور کو اس چراغ کے نور کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو صاف شفاف شیشے سے بنی ہوئی کسی قندیل میں ہو اور اس قندیل کو کسی طاقچے میں رکھ دیا جائے تاکہ اس کا نور معین جہت ہی میں رہے جہاں اس کی ضرورت ہے، اس چراغ میں جو تیل استعمال ہوا ہے وہ تیل زیتون کے مخصوص درخت سے حاصل شدہ ہے ، اس تیل میں ایسی چمک ہے کہ بغیر آگ دکھائے ہی چمکتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی حال مومن کے دل کا ہے کہ وہ حصولِ علم سے قبل ہی ہدایت پر عمل پیرا ہوتا ہے پھر جب علم آجائے تو نور علی نور کی صورت ہوجاتی ہے۔


دوسری مثال اہل باطل کے اعمال کی ہے جنھیں وہ اچھا سمجھتے تھے، فرمایا کہ ان کی مثال سراب کی سی ہے، جیسے پیاسا شخص دور سے سراب کو پانی سمجھ بیٹھتا ہے، لیکن جب قریب آتا ہے تو وہاں پانی کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا ، یہی حال کافر کا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو نافع سمجھتا ہے، لیکن جب موت کے بعد اللہ کے سامنے پیش ہوگا تو وہاں کچھ بھی نہیں ہوگا، اس کے اعمال غبار بن کر اڑچکے ہوں گے۔


تیسری مثال میں ان کے عقائد کو سمندر کی تہ بہ تہ تاریکیوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ، جہاں انسان کو اور تو اور اپنا ہاتھ تک دکھائی نہیں دیتا، یہی حال کافر کا ہے جو کفر اور ضلالت کی تاریکیوں میں سرگرداں رہتا ہے۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


(۳) سورۂ فرقان کے ابتدائی حصے میں چار باتیں یہ ہیں:

(۱) توحید

(۲) قرآن کی حقانیت

(۳) رسالت

(۴) قیامت


۔ ۔ ۔ 


(۱) توحید:

اللہ وہ ذات ہے جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے ، نہ اس کا کوئی بیٹا ہے ، نہ کوئی شریک ہے ، اس نے ہر چیز کو پیدا کرکے اسے ایک نپا تلا انداز عطا کیا ہے۔


۔ ۔ ۔ 


(۲) قرآن کی حقانیت:

کافروں کی قرآن کے بارے میں دو قسم کی غلط بیانیاں ذکر کی ہیں:

1۔ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا افتراء اور اپنی تخلیق ہے جس میں کچھ دوسرے لوگوں نے تعاون کیا ہے۔

2۔ یہ گزشتہ قوموں کے قصے اور کہانیاں ہیں جو اس نے لکھوالی ہیں۔


۔ ۔ ۔ 


(۳) رسالت:

کفار کا خیال تھا کہ رسول بشر نہیں بلکہ فرشتہ ہوتا ہے اور اگر بالفرض انسانوں میں سے کسی کو نبوت و رسالت ملے بھی تو وہ دنیاوی اعتبار سے خوشحال لوگوں کو ملتی ہے ، کسی غریب اور یتیم کو ہرگز نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس باطل خیال کی تردید واضح دلائل سے کی ہے۔


۔ ۔ ۔ 


(۴) قیامت:

روزِ قیامت کافروں کے معبودانِ باطلہ سے اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو بہکایا تھا یا یہ راستے سے خود بھٹکے تھے؟ تو وہ اپنے عبادت گزاروں کو جھٹلادیں گے اور ان کی غفلت کا اقرار کریں گے ، پھر ان کافروں کو بڑے بھاری عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔


=======

سترھواں پارہ

 سترھواں پارہ​

========


اس پارے میں دو حصے ہیں:

۱۔ سورۂ انبیاء مکمل 

۲۔ سورۂ حج مکمل


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ انبیاء میں تین باتیں یہ ہیں:

۱۔ قیامت

۲۔ رسالت

۳۔ توحید


۱۔ قیامت:

بتایا گیا ہے کہ قیامت کا وقوع اور حساب کا وقت بہت قریب آگیا ہے، لیکن اس ہولناک دن سے انسان غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ (۱)

نیز قربِ قیامت میں یاجوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں گے۔ (۹۶)

نیز مشرکین اور ان کے بت قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ (۹۸)


۲۔ رسالت:

رسالت کے ضمن میں سترہ انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر ہے: 

(۱)حضرت موسیٰ علیہ السلام ، (۲)حضرت ہارون علیہ السلام (۳)حضرت ابراہیم علیہ السلام ، (۴)حضرت لوط علیہ السلام، (۵)حضرت اسحاق علیہ السلام ، (۶)حضرت یعقوب علیہ السلام ، (۷)حضرت نوح علیہ السلام ، (۸)حضرت داؤد علیہ السلام ، (۹)حضرت سلیمان علیہ السلام ، (۱۰)حضرت ایوب علیہ السلام ، (۱۱)حضرت اسماعیل علیہ السلام ، (۱۲)حضرت ادریس علیہ السلام ، (۱۳)حضرت ذی الکفل علیہ السلام ، (۱۴) حضرت یونس علیہ السلام ، (۱۵)حضرت زکریا علیہ السلام ، (۱۶)حضرت یحیٰ علیہ السلام اور (۱۷)حضرت عیسیٰ علیہ السلام

ان سترہ میں سے کچھ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے قدرے تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں اور باقیوں کا اجمالی ذکر ہے۔

انبیائے سابقہ کے قصے بیان کرنے کے بعد بتایا گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین اور دنیا میں سارے جہانوں کے لیے رحمت ہیں، آپ نے اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچا دیا، مگر جب ہر قسم کے دلائل پیش کرنے کے بعد بھی لوگ نہ سمجھے تو آپ نے اللہ سے دعا کی ، اسی دعا پر یہ سورت ختم ہوتی ہے ، دعا یہ ہے:

”رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا الرَّحْمَ۔ٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ“

”اے میرے پروردگار! حق کا فیصلہ کردیجیے اور ہمارا پروردگار بڑی رحمت والا ہے ، اور جو باتیں تم بناتے ہو ان کے مقابلے میں اسی کی مدد درکار ہے۔“


۳۔ توحید:

توحید پر چھ دلائل ذکر کیے گئے ہیں:

آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے، ہم نے دونوں کو جدا جدا کردیا۔

ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا ہے۔

ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے، تاکہ لوگوں کے بوجھ سے زمین ہلنے نہ لگے۔

ہم نے زمین میں کشادہ راستے بنائے، تاکہ لوگ ان پر چلیں۔

ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔

رات دن ، سورج اور چاند کا نظام بنایا، ہر ایک اپنے اپنے مدار میں انتہائی تیز رفتاری سے گھوم رہا ہے، نہ ان میں ٹکراؤ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ خلط ملط ہوتے ہیں۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ حج میں چھ باتیں یہ ہیں:​


۱۔ قیامت: (قیامت کی ہولناکیوں کے دل دہلانے والی منظر کشی کی گئی ہے۔)


۲۔ تخلیق انسان کے سات مراحل: (۱)مٹی (۲)منی (۳)خون کا لوتھڑا (۴)بوٹی (۵)بچہ (۶)جوان (۷)بوڑھا 


۳۔ ملل اور مذاہب کے لحاظ سے چھ گروہ: مسلمان ، یہودی ، صابی(ستارہ پرست) ، عیسائی ، مجوسی (سورج ، چاند اور آگ کا پجاری) ، مشرک(بت پرست)


۴۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلان حج: (حضرت ابرہیم علیہ السلام نے جبل ابی قیس پر کھڑے ہوکر حج کا اعلان کیا تھا ، یہ اعلان اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے زمین و آسمان میں رہنے والوں تک پہنچادیا تھا۔)


۵۔ مؤمنین کی چار علامات: (۱)اللہ کا خوف ، (۲)مصائب پر صبر ، (۳)نماز کی پابندی ، (۴)نیک مصارف میں خرچ کرنا


۶۔ دیگر احکامات: مثلا مناسک حج ، اقامتِ صلوۃ ، ادائیگیٔ زکوۃ ، جانوروں کی قربانی اور جہاد وغیرہ۔


=======

سولھواں پارہ

 سولھواں پارہ​

========


اس پارے میں تین حصے ہیں:

۱۔ سورۂ کہف کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ مریم مکمل

۳۔ سورۂ طٰہٰ مکمل


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ کہف کے بقیہ حصے میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا قصہ (جو پندرھویں پارے کے آخر میں شروع ہوکر سولھویں پارے کے شروع میں ختم ہورہا ہے)

۲۔ ذوالقرنین کا قصہ


۱۔ حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا قصہ:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ کی طرف سے یہ اطلاع ہوئی کہ سمندر کے کنارے ایک ایسے صاحب رہتے ہیں جن کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں تو آپ ان کی تلاش میں چل پڑے، چلتے چلتے آپ سمندر کے کنارے پہنچ گئے، یہاں آپ کی ملاقات حضرت خضر علیہ السلام سے ہوئی اور آپ نے ان سے ساتھ رہنے کی اجازت مانگی، انھوں نے اس شرط کے ساتھ اجازت دی کہ آپ کوئی سوال نہیں کریں گے، پھر تین عجیب واقعات پیش آئے، پہلے واقعے میں حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کے تختے کو توڑ ڈالا جس کے مالکان نے انھیں کرایہ لیے بغیر بٹھالیا تھا، دوسرے واقعے میں ایک معصوم بچے کو قتل کردیا، تیسرے واقعے میں ایک ایسے گاؤں میں گرتی ہوئی بوسیدہ دیوار کی تعمیر شروع کردی جس کے باشندوں نے انھیں کھانا تک کھلانے سے انکار کردیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تینوں موقعوں پر پوچھ بیٹھے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تیسرے سوال کے بعد حضرت خضر علیہ السلام نے جدائی کا اعلان کردیا کہ اب ہم ساتھ نہیں چل سکتے، البتہ تینوں واقعات کی اصل حقیقت انھوں نے آپ کے سامنے بیان کردی، فرمایا کشتی کا تختہ اس لیے توڑا تھا کیونکہ آگے ایک ظالم بادشاہ کے کارندے کھڑے تھے جو ہر سالم اور نئی کشتی زبردستی چھین رہے تھے، جب میں نے اسے عیب دار کردیا تو یہ اس ظالم کے قبضے میں جانے سے بچ گئی، یوں ان غریبوں کا ذریعۂ معاش محفوظ رہا۔ بچے کو اس لیے قتل کیا کیونکہ یہ بڑا ہوکر والدین کے لیے بہت بڑا فتنہ بن سکتا تھا ، جس کی وجہ سے ممکن تھا وہ انھیں کفر کی نجاست میں مبتلا کردیتا، اس لیے اللہ نے اسے مارنے کا اور اس کے بدلے انھیں باکردار اور محبت و اطاعت کرنے والی اولاد دینے کا فیصلہ فرمایا۔ گرتی ہوئی دیوار اس لیے تعمیر کی کیونکہ وہ دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی، ان کے والد اللہ کے نیک بندے تھے، دیوار کے نیچے خزانہ پوشیدہ تھا، اگر وہ دیوار گر جاتی تو لوگ خزانہ لوٹ لیتے اور نیک باپ کے یہ دو یتیم بچے اس سے محروم ہوجاتے، ہم نے اس دیوار کو تعمیر کردیا تاکہ جوان ہونے کے بعد وہ اس خزانے کو نکال کر اپنے کام میں لاسکیں۔


۲۔ ذوالقرنین کا قصہ:

یہ بڑے زبردست وسائل والا بادشاہ تھا، اس کا گزر ایک قوم پر ہوا جو ایک دوسری وحشی قوم کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئی تھی، جسے قرآن نے ”یاجوج و ماجوج“ کا نام دیا ہے۔ ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج پر دیوار چن دی، اب وہ قربِ قیامت میں ہی ظاہر ہوں گے۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ مریم میں تقریبا گیارہ انبیائے کرام علیہم السلام کا تذکرہ ہے:​

تین انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر قدرے تفصیلی ہے:

۱۔ حضرت یحی علیہ السلام کی ولادت (اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام اور ان کی اہلیہ کو بڑھاپے میں بیٹا عطا فرمایا جسے نبوت سے بھی سرفراز فرمایا۔)

۲۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت (اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور انھیں بچپن ہی میں گویائی عطا فرمادی۔)

۳۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد کو دعوت (شرک نہ کریں، اللہ نے مجھے علم دیا ہے ، میری بات مان لیں، شیطان کی بات نہ مانیں، وہ اللہ کا نافرمان ہے ، اس کے مانیں گے تو اللہ کا عذاب آئے گا۔)


باقی آٹھ انبیائے کرام علیہم السلام کا یا تو بہت مختصر ذکر ہے یا صرف نام آیا ہے:

۴۔حضرت موسیٰ علیہ السلام ۵۔حضرت ہارون علیہ السلام ۶۔حضرت اسماعیل علیہ السلام ۷۔حضرت اسحاق علیہ السلام ۸۔حضرت یعقوب علیہ السلام ۹۔حضرت ادریس علیہ السلام ۱۰۔حضرت آدم علیہ السلام ۱۱۔حضرت نوح علیہ السلام


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


تیسرا حصہ


سورۂ طٰہٰ میں تین باتیں یہ ہیں:​

۱۔ تسلی رسول

۲۔ حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ

۳۔ حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ


۱۔ تسلی رسول:

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت اور دعوت دونوں میں بے پناہ مشقت اٹھاتے تھے، راتوں کو نماز میں اتنی طویل قراءت فرماتے کہ پاؤں مبارک میں ورم آجاتا اور پھر انسانوں تک قرآن کے ابلاغ اور دعوت میں بھی اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے تھے اور جب کوئی اس دعوت پر کان نہ دھرتا تو آپ کو بے پناہ غم ہوتا ، اسی لیے رب کریم نے کئی مقامات پر آپ کو تسلی دی ہے، یہاں بھی یہی سمجھایا گیا کہ آپ اپنے آپ کو زیادہ مشقت میں نہ ڈالیں، اس قرآن سے ہر کسی کا دل متاثر نہیں ہوسکتا ، یہ تو صرف اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو دل میں اللہ کا خوف رکھتا ہو۔


۲۔ حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جو حالات اس سورت میں بیان کیے گئے ہیں ان کو ذہن نشین کرنے کے لیے چند عنوانات قائم کیے جاسکتے ہیں، یعنی باری تعالیٰ کے ساتھ شرفِ ہم کلامی ، دریا میں ڈالا جانا، تابوت کا فرعون کو ملنا، پوری عزت اور احترام کے ساتھ رضاعت کے لیے حقیقی والدہ کی طرف آپ کو لوٹا دینا، آپ سے ایک قبطی کا قتل ہوجانا ، لیکن اللہ کا آپ کو قصاص سے نجات دلانا، آپ کا کئی سال مدین میں رہنا، اللہ کی طرف سے آپ کو اور آپ کے بھائی حضرت ہارون علیہما السلام کو فرعون کے پاس جانے کا حکم، فرعون کے ساتھ موعظہ حسنہ کے اصول کے تحت مباحثہ، اس کا مقابلے کے لیے جادوگروں کو جمع کرنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح، ساحروں کا قبولِ ایمان، راتوں رات بنی اسرائیل کا اللہ کے نبی کی قیادت میں مصر سے خروج، فرعون کا مع لاؤ لشکر تعاقب اور ہلاکت ، اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کا ناشکراپن ، سامری کا بچھڑا بنانا اور اسرائیلیوں کی ضلالت، تورات لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طور سے واپسی اور اپنے بھائی پر غصے کا اظہار ، حضرت ہارون علیہ السلام کا وضاحت کرنا وغیرہ۔


۳۔ حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ:

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرماکر مسجودِ ملائک بنایا ، سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا، اب یہ تمھارا اور تمھاری بیوی کا دشمن ہے ، جنت میں رہو، یہاں آرام ہی آرام ہے، نہ تم بھوکے ہوتے ہو نہ ننگے ، نہ پیاسے ہوتے ہو نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتے ہو، بس فلاں درخت کے قریب نہ جانا، مگر شیطان نے وسوسہ پیدا کیا ، حضرت آدم و حواء علیہما السلام نے شجرِ ممنوع میں سے کچھ کھالیا ، اللہ نے انھیں جنت سے نکال دیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی ، اللہ نے انھیں معاف فرمادیا۔


=======

Friday, April 21, 2023

پندرھواں پارہ

 پندرھواں پارہ​

========


اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ سورۂ بنی اسرائیل مکمل​

۲۔ سورۂ کہف کا زیادہ تر حصہ​


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ بنی اسرائیل میں چار باتیں یہ ہیں:

۱۔ واقعہ معراج

۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ وفساد

۳۔ اسلامی آداب و اخلاق

۴۔ دیگر مضامین


۔ ۔ ۔


۱۔ واقعہ معراج:

معراج جسمانی ہوئی اور جاگنے کی حالت میں۔ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا تھا۔


۔ ۔ ۔ 


۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ و فساد:

بنی اسرائیل کو پہلے سے بتادیا گیا تھا کہ تم لوگ دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤ گے، چنانچہ ایک دفعہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ایذا پہنچائی تو بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا گیا، دوسری بار حضرت زکریا اور یحیٰ علیہما السلام کو شہید کردیا تو بابل کا بادشاہ ان پر مسلط ہوگیا۔


۔ ۔ ۔


۳۔ اسلامی آداب و اخلاق: (آیات: ۲۳ تا ۳۹)

اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، والدین کے ساتھ بھلائی کرتے رہو، رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو، مال کو فضول خرچی میں نہ اڑاؤ، نہ بخل کرو، نہ ہاتھ اتنا کشادہ رکھو کہ کل کو پچھتانا پڑے، اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، کسی جاندار کو ناحق قتل نہ کرو، یتیم کے مال میں ناجائز تصرف نہ کرو، وعدہ کرو تو اسے پورا کرو، ناپ تول پورا پورا کیا کرو، جس چیز کے بارے میں تحقیق نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، زمین پر اکڑ کر نہ چلو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔


۔ ۔ ۔ 


۴۔ دیگر مضامین:

قرآن کریم کی عظمت ، اس کے نزول کے مقاصد، اس کا معجزہ ہونا، اللہ کی طرف سے انسان کو تکریم دیا جانا ، اسے روح اور زندگی جیسی نعمت کا عطا ہونا، نبی علیہ السلام کو نمازِ تہجد کا حکم، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا قصہ ، قرآن کریم کے تھوڑا تھوڑا نازل ہونے کی حکمت، اللہ تعالیٰ کا شریک اور اولاد سے پاک ہونا اور اسمائے حسنی کے ساتھ متصف ہونا۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ کہف کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ دو قصے

۲۔ دو مثالیں


۔ ۔ ۔


۱۔ دو قصے:

پہلا قصہ اصحاب کہف کا: یہ وہ چند صاحب ایمان نوجوان تھے جنھیں دقیانوس نامی بادشاہ بت پرستی پر مجبور کرتا تھا، وہ ہر ایسے شخص کو قتل کردیتا تھا جو اس کی شرکیہ دعوت کو قبول نہیں کرتا تھا، ان نوجوانوں کو ایک طرف مال و دولت کے انبار ، اونچے عہدوں پر تقرر اور بلند معیارِ زندگی جیسی ترغیبات دی گئیں اور دوسری طرف ڈرایا دھمکایا گیا اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں، ان نوجوانوں نے ایمان کی حفاظت کو ہر چیز پر مقدم جانا اور اسے بچانے کی خاطر نکل کھڑے ہوئے، چلتے چلتے شہر سے بہت دور ایک پہاڑ کے غار تک پہنچ گئے، راستے میں ایک کتا بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا، انھوں نے اس غار میں پناہ لینے کا ارادہ کیا، وہ جب غار میں داخل ہوگئے تو اللہ نے انھیں گہری نیند سلادیا، یہاں وہ تین سو نو سال تک سوتے ہرے، جب نیند سے بیدار ہوئے تو کھانے کی فکر ہوئی، انمیں سے ایک کھانا خریدنے کے لیے شہر آیا، وہاں اسے پہچان لیا گیا، تین صدیوں میں حالات بدل چکے تھے، اہلِ شرک کی حکومت کب کی ختم ہوچکی تھی اور اب موحد برسر اقتدار تھے، ایمان کی خاطر گھربار چھوڑنے والے یہ نوجوان ان کی نظر میں قومی ہیروز کی حیثیت اختیار کرگئے۔

دوسرا قصہ حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا: اس کا ذکر اگلے پارے کے شروع میں ہوگا۔


۔ ۔ ۔


۲۔ دو مثالیں:

پہلی مثال: دو شخص تھے، ایک کے باغات تھے اور دوسرا غریب تھا، باغات والا اکڑتا تھا، غریب نے کہا اکڑ نہیں ، بلکہ "ماشاء اللہ" کہا کر، وہ نہ مانا ، اللہ کا عذاب آیا اور اس کے باغات جل گئے وہ شرمندہ ہوگیا۔

دوسری مثال: دنیاوی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے پانی برسا، زمین سرسبز ہوگئی، کچھ عرصے بعد سب کچھ سوکھ کر چورا چورا ہوگیا۔

تیرھواں پارہ

 تیرھواں پارہ​

========


اس پارے میں تین حصے ہیں:​

۱۔ سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ رعد مکمل

۳۔ سورۂ ابراہیم مکمل


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ:

اس کی تفصیل پچھلے پارے میں مذکور ہوچکی ہے۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ رعد میں پانچ باتیں یہ ہیں:

۱۔ قرآن کی حقانیت

۲۔ توحید

۳۔ قیامت

۴۔ رسالت

۵۔ متقین کی آٹھ صفات اور اشقیاء کی تین علامات


۔ ۔ ۔ 


۱۔ قرآن کی حقانیت:

یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جن سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے ان کی ابتدا میں عام طور پر قرآن کا ذکر ہوتا ہے، ان مخالفین کو چیلنج کرنے کے لیے جو قرآن کریم کو معاذ اللہ انسانی کاوش قرار دیتے ہیں۔


۔ ۔ ۔ 


۲۔ توحید:

آسمانوں اور زمین، سورج اور چاند، رات اور دن، پہاڑوں اور نہروں ، غلہ جات اور مختلف رنگوں، ذائقوں اور خوشبوؤں والے پھلوں کو پیدا کرنے والا وہی ہے اور موت اور زندگی ، نفع اور نقصان اس اکیلے کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ نے انسانوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں۔


۔ ۔ ۔ 


۳۔ قیامت:

مشرکوں کو تو اس پر تعجب ہوتا ہے کہ مردہ ہڈیوں میں زندگی کیسے ڈالی جائے گی، جبکہ درحقیقت باعثِ تعجب بعث بعد الموت نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کا تعجب سے یہ کہنا باعث تعجب ہے۔


۔ ۔ ۔ 


۴۔ رسالت:

ہر قوم کے لیے کوئی نہ کوئی رہنما اور پیغمبر بھیجا جاتا ہے۔


۔ ۔ ۔ 


۵۔ 

متقین کی آٹھ صفات: (۱)وفاداری (۲)صلہ رحمی (۳)خوف خدا (۴)خوف آخرت (۵)صبر (۶)نماز کی پابندی (۷)صدقہ (۸)برائی کا بدلہ اچھائی سے

اشقیاء کی تین علامات: (۱)وعدہ خلافی (۲)قطع رحمی (۳)فساد فی الارض


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


(۳) سورۂ ابراہیم میں پانچ باتیں یہ ہیں:

۱۔ توحید

۲۔ رسالت

۳۔ قیامت

۴۔ چند اہم باتیں

۵۔ چھ دعائیں


۔ ۔ ۔ 


۱۔ توحید:

تمام آسمانوں اور زمینوں کو اللہ نے بنایا ہے، اسی نے آسمان سے پانی اتارا ، پھر انسانوں کے لیے زمین سے قسم قسم کے پھل نکالے اور پانی کی سواریوں اور نہروں کو انسانوں کے تابع کردیا اور سورج اور چاند اور رات اور دن کو انسانوں کے کام میں لگادیا، غرض جو کچھ انسانوں نے مانگا اللہ نے عطا کیا، اس کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی گنتی بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔


۔ ۔ ۔ 


۲۔ رسالت:

اس کے ضمن میں کچھ باتیں یہ ہیں:

۱۔ نبی علیہ السلام کی تسلی کے لیے بتایا گیا ہے کہ سابقہ انبیاء کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے اعراض و انکار اور عداوت و مخالفت کا یہی رویہ اختیار کیا تھا، جو آپ کی قوم اختیار کیے ہوئے ہے۔

۲۔ ہر نبی اپنی قوم کا ہم زبان ہوتا ہے۔

۳۔ پچھلی قوموں کے مکذبین کے کچھ شبہات کا ذکر کیا گیا ہے: (۱)اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں شک (۲)بشر رسول نہیں ہوسکتا (۳)تقلید آباء۔ ان شبہات کی تردید کی گئی ہے۔


۔ ۔ ۔ 


۳۔ قیامت:

کافروں کے لیے جہنم اور مومنین کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ جنت کی نعمتوں اور جہنم کی ہولناکیوں کا ذکر ہے۔ روزِ قیامت حساب کتاب ہوچکنے کے بعد شیطان گمراہوں سے کہے گا کہ جو وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا اور اور جو وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا ، میں نے تم پر زبردستی نہیں کی تھی، تم خود میرے بہکاوے میں آگئے تھے، اب مجھے ملامت کرنے کے بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔


۔ ۔ ۔ 


۴۔ چند اہم باتیں:

(۱) شکر سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے اور ناشکروں کے لیے اللہ تعالٰی کا سخت عذاب ہے۔

(۲) کافروں کے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ تیز ہوا آئے اور سب اڑا لے جائے۔

(۳) حق اور ایمان کا کلمہ پاکیزہ درخت کی مانند ہے ، اس کی جڑ بڑی مضبوط اور اس کا پھل بڑا شیریں ہوتا ہے اور باطل اور ضلالت کا کلمہ ناپاک درخت کی مانند ہے ، اس کے لیے قرار بھی نہیں ہوتا اور وہ ہوتا بھی بے ثمر ہے۔

(۴) اللہ تعالیٰ ظالموں کے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔


۔ ۔ ۔ 


۵۔چھ دعائیں:

حضرت ابرہیم علیہ السلام کی اپنے رب سے چھ دعاؤں کا ذکر ہے:

(۱)امن (۲)بت پرستی سے حفاظت (۳)اقامتِ صلاۃ (۴)ذریتِ ابراہیم کی طرف دلوں کا میلان (۵)رزق (۶)مغفرت


=======

بارھواں پارہ

 بارھواں پارہ​

=======


اس پارے میں دو حصے ہیں:

۱۔ سورۂ ہود مکمل (اس کی ابتدائی پانچ آیات گیارھویں پارے میں ہیں)

۲۔ سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


(۱) سورۂ ہود میں چار باتیں یہ ہیں:

۱۔ قرآنِ کریم کی عظمت

۲۔ توحید اور دلائل توحید

۳۔ رسالت اور اس کے اثبات کے لیے سات انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات

۴۔ قیامت کا تذکرہ


۱۔ قرآن کی عظمت:

(۱) قرآن اپنی آیات، معانی اور مضامین کے اعتبار سے محکم کتاب ہے اور اس میں کسی بھی اعتبار سے فساد اور خلل نہیں آسکتا اور نہ اس میں کوئی تعارض یا تناقض پایا جاتا ہے، اس کے محکم ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اس کی تفصیل اور تشریح اس ذات نے کی ہے جو حکیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے، اس کا ہر حکم کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہے اور اسے انسان کے ماضی ، حال ، مستقبل ، اس کی نفسیات ، کمزوریوں اور ضروریات کا بخوبی علم ہے۔

(۲)منکرین قرآن کو چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر واقعی قرآن انسانی کاوش ہے تو تم بھی اس جیسی دس سورتیں بناکر لے آؤ۔


۲۔ توحید اور دلائل توحید:

ساری مخلوق کو رزق دینے والا اللہ ہی ہے، خواہ وہ مخلوق انسان ہو یا جنات ، چوپائے ہوں یا پرندے، پانی میں رہنے والی مچھلیاں ہوں یا زمین پر رینگنے والے کیڑے مکوڑے، آسمان اور زمین کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔


۳۔ رسالت اور اس کے اثبات کے لیے سات انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات:

(۱)حضرت نوح علیہ السلام۔۔ ان کی قوم ایمان نہیں لائی سوائے چند کے، انھوں نے اللہ کے حکم سے کشتی بنائی، ایمان والے محفوظ رہے، باقی سب غرق ہوگئے۔

(۲)حضرت ہود علیہ السلام۔۔ ان کی قوم میں سے جو ایمان لے آئے وہ کامیاب ہوئے باقی سب پر (باد صرصر کی صورت میں) اللہ کا عذاب آیا۔

(۳)حضرت صالح علیہ السلام۔۔ ان کی قوم کی فرمائش پر اللہ تعالیٰ نے پہاڑ سے اونٹنی نکالی، مگر قوم نے اسے مار ڈالا، ان پر بھی اللہ کا عذاب نازل ہوا۔

(۴)حضرت ابراہیم علیہ السلام۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کو اللہ نے بڑھاپے کی حالت میں بیٹا (حضرت اسحاق علیہ السلام) عطا فرمایا پھر ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام ہوئے۔

(۵)حضرت لوط علیہ السلام۔۔ ان کی قوم کے لوگ بدکار تھے، عورتوں کے بجائے لڑکوں کی طرف مائل ہوتے تھے، کچھ فرشتے خوبصورت جوانوں کی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے، ان کی قوم کے بدکار لوگ بھی وہاں پہنچ گئے، حضرت لوط علیہ السلام نے انھیں سمجھایا کہ لڑکیوں سے شادی کرلو، مگر وہ نہ مانے، ان پر اللہ کا عذاب آیا ، اس بستی کو زمین سے اٹھا کر الٹادیا گیا اور ان پر پتھروں کا عذاب نازل کیا گیا۔

(۶)حضرت شعیب علیہ السلام۔۔ ان کی قوم کے لوگ ناپ تول میں کمی کرتے تھے، جنھوں نے نبی کی بات مانی بچ گئے، نافرمانوں پر چیخ کا عذاب آیا۔

(۷)حضرت موسی علیہ السلام۔۔ فرعون نے ان کی بات نہیں مانی ، اللہ نے اسے اور اس کے ماننے والوں کو ناکام کردیا۔


ان واقعات میں ایک طرف تو عقل، فہم اور سمع و بصر والوں کے لیے بے پناہ عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور دوسری طرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مخلص اہلِ ایمان کے لیے تسلی اور ثابت قدمی کا سامان اور سبق ہے، اسی لیے یہ واقعات بیان کرتے ہوئے آپ کو استقامت کا حکم دیا گیا ہے جو کہ حقیقت میں پوری امت کو حکم ہے، استقامت کوئی آسان چیز نہیں ہے، بلکہ انتہائی مشکل صفت ہے جو اللہ کے مخصوص بندوں ہی کو حاصل ہوتی ہے، استقامت کا مطلب یہ ہے کہ پوری زندگی ان تعلیمات کے مطابق گزاری جائے جن کے مطابق گزارنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔


۴۔ قیامت کا تذکرہ:

روزِ قیامت انسانوں کی دو قسمیں ہوں گی: (۱)بد بخت لوگ (۲)نیک بخت لوگ

بدبختوں کے لیے ہولناک عذاب ہوگا جب تک اللہ چاہیں گے۔(حالتِ کفر پر مرنے والے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے۔)

نیک بختوں کے لیے اللہ نے جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کی بے حساب نعمتیں رکھی ہیں۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


(۲) سورۂ یوسف میں قصۂ حضرت یوسف علیہ السلام بالتفصیل ہے:​


تمہید:

تمام انبیائے کرام کے قصے قرآن میں بکھرے ہوئے ہیں، مگر حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ پورا کا پورا صرف اسی سورت میں ہے، دوسری سورتوں میں ان کا نام تو آیا ہے، مگر قصہ تھوڑا سا بھی کسی اور سورت میں مذکور نہیں ہے۔

حضررت یوسف علیہ السلام کا قصہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کے بہت زیادہ مشابہ ہے، آپ علیہ السلام کے بھی قریشی بھائیوں نے آپ سے حسد کیا، آپ کو مکہ چھوڑ کر جانا پڑا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کنویں میں رہے آپ علیہ السلام غار ثور میں۔ وہ مصر گئے آپ مدینہ گئے۔ وہ وزیر بنے آپ پہلی اسلامی مملکت کے حاکم بنے۔ بعد میں بھائی ان کے شرمندہ ہوکر آئے، آپ کے سامنے بھی فتح مکہ کے موقع پر سب نے گردن جھکالی۔ انھوں نے کہا: “لاتثریب علیكم الیوم“(آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (و ملامت) نہیں ہے) آپ علیہ السلام نے بھی فرمایا: ”میں تم سے وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا۔


قصۂ حضرت یوسف علیہ السلام:

حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے، حضرت یوسف علیہ السلام ان میں سے غیرمعمولی طور پر حسین تھے، ان کی سیرت اور صورت دونوں کے حسن کی وجہ سے ان کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا اور اپنے والدِ گرامی کو اپنا خواب سنایا کہ گیارہ ستارے ، چاند اور سورج مجھے سجدہ کر رہے ہیں، ان کے والد نے انھیں منع کیا کہ اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو مت بتانا، باپ کی بیٹے سے اس محبت کی وجہ سے بھائی حسد میں مبتلا ہوگئے، وہ اپنے والد کو تفریح کا کہہ کر حضرت یوسف علیہ السلام کو جنگل میں لے گئے اور آپ کو کنویں میں گرادیا، وہاں سے ایک قافلہ گزرا، انھوں نے پانی نکالنے کے لیے کنویں میں ڈول ڈالا تو اندر سے آپ نکل آئے، قافلے والوں نے مصر جاکر بیچ دیا، عزیزِ مصر نے خرید کر اپنے گھر میں رکھ لیا، جوان ہوئے تو عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی، اس نے برائی کی دعوت دی، آپ نے اس کی دعوت ٹھکرادی، عزیزِ مصر نے بدنامی سے بچنے کے لیے آپ کو جیل میں ڈلوادیا، قیدخانے میں بھی آپ نے دعوتِ توحید کا سلسلہ جاری رکھا، جس کی وجہ سے قیدی آپ کی عزت کرتے تھے، بادشاہِ وقت کے خواب کی صحیح تعبیر اور تدبیر بتانے کی وجہ سے آپ اس کی نظروں میں جچ گئے، اس نے آپ کو خزانے، تجارت اور مملکت کا خود مختار وزیر بنادیا، مصر اور گردوپیش میں قحط کی وجہ سے آپ کے بھائی غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر آئے، ایک دو ملاقاتوں کے بعد آپ نے انھیں بتایا کہ میں تمھارا بھائی یوسف ہوں، پھر آپ کے والدین بھی مصر آگئے اور سب یہیں آکر آباد ہوگئے۔


بصائر و عبر از قصۂ حضرت یوسف علیہ السلام:

(۱)مصہبت کے بعد راحت ہے۔ (۲)حسد خوفناک بیماری ہے۔ (۳)اچھے اخلاق ہر جگہ کام آتے ہیں۔ (۴)پاکدامنی تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔ (۵)نامحرم مرد اور عورت کا اختلاط تنہائی میں نہیں ہونا چاہیے۔ (۶)ایمان کی برکت سے مصیبت آسان ہوجاتی ہے۔ (۷)معصیت پر مصیبت کو ترجیح دینی چاہیے۔ (۸)داعی جیل میں بھی دعوت دیتا ہے۔ (۹)موضع تہمت سے بچنا چاہیے۔ (۱۰)جو حق پر تھا اس کی سب نے شہادت دی: اللہ تعالیٰ نے، خود حضرت یوسف علیہ السلام نے، عزیز مصر کی بیوی نے، عورتوں نے، عزیزِ مصر کے خاندان کے ایک فرد نے۔


=======

گیارھواں پارہ

 گیارھواں پارہ​

========


اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ سورۂ توبہ کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ یونس مکمل


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


پہلا حصہ


سورۂ توبہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں یہ ہیں:​


۱۔ منافقین کی مذمت

۲۔ مومنین کی نو صفات

۳۔ غزوۂ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے تین مخلص صحابہ


۱۔ منافقین کی مذمت:

اللہ تعالیٰ نے غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہونے کے بارے میں منافقین کے جھوٹے اعذار کی اپنے نبی کو خبر دے دی، نیز منافقین نے مسلمانوں کو تنگ کرنے کے لیے مسجد ضرار بنائی تھی، اللہ تعالیٰ نے نبی کو اس میں کھڑا ہونے سے منع فرمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس مسجد کو جلا دیا گیا۔


۲۔ مومنین کی نو صفات:

(۱)توبہ کرنے والے (۲)عبادت کرنے والے (۳)حمد کرنے والے (۴)روزہ رکھنے والے (۵)رکوع کرنے والے (۶)سجدہ کرنے والے (۷)نیک کاموں کا حکم کرنے والے (۸)بری باتوں سے منع کرنے والے (۹)اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے


۳۔ غزوۂ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے تین مخلص صحابہ:

(۱)حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ (۲)حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ (۳)حضرت مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ

ان تینوں سے پچاس دن کا بائکاٹ کیا گیا، پھر ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان وحی کے ذریعے کیا گیا۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


دوسرا حصہ


سورۂ یونس میں چار باتیں یہ ہیں:​

۱۔ توحید (رازق ، مالک ، خالق اور ہر قسم کی تدبیر کرنے والا اللہ ہی ہے۔آیت:۳۱)

۲۔ رسالت (اور اس کے ضمن میں حضرت نوح ، حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون اور حضرت یونس علیہم السلام کے قصے مذکور ہیں)

۳۔ قیامت (روز قیامت سب کو جمع کیا جائے گا۔آیت:۴ ، مگر کفار کو اس کا یقین نہیں۔ آیت:۱۱)

۴۔ قرآن کی عظمت (یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیات ہیں۔ آیت:۱)


حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ:

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دی، انھوں نے بات نہیں مانی، سوائے کچھ لوگوں کے، اللہ تعالیٰ نے ماننے والوں کو نوح علیہ السلام کی کشتی میں محفوظ رکھا اور باقی سب کو جوکہ نافرمان تھے پانی میں غرق کردیا۔


حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا قصہ:

حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف بھیجا، فرعون اور اس کے سرداروں نے بات نہ مانی، بلکہ فرعون نے خدائی کا دعوی کیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر بتلایا اور ان کے مقابلے میں اپنے جادوگروں کو لے آیا، جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو حکم دیا کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر اور مسجدیں بنائیں اور مسجدوں میں سب نماز ادا کریں، فرعون اور اس کے ماننے والے بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے سمندر میں غرق ہوگئے، بنی اسرائیل کے لیے اللہ نے سمندر میں راستے بنادیے۔


حضرت یونس علیہ السلام:

انھی کے نام پر اس سورت کا نام ”سورۂ یونس“ رکھا گیا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کا نام قرآن میں چار جگہ(سورۂ نساء ، انعام ، یونس اور صافات میں) صراحۃً یونس آیا ہے اور دو جگہ(سورۂ یونس اور سورۂ قلم میں) اللہ نے ان کا ذکر مچھلی والا (صاحب الحوت / ذا النون) کی صفت کے ساتھ فرمایا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کے دو رخ ہیں:

ایک ان کا مچھلی کے پیٹ میں جانا، اس کا تفصیلی ذکر سورۂ صافات میں ہے۔

دوسرا ان کی قوم کا ان کی غیر موجودگی میں توبہ و استغفار کرنا، سورۂ یونس میں اس طرف اشارہ ہے۔


قصہ:

حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کے ایمان سے مایوس اور اللہ کا عذاب آنے کو یقینی دیکھ کر ”نینوی“ کی سر زمین چھوڑ کر چلے گئے، آگے جانے کے لیے جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو سمندر میں طغیانی کی وجہ سے کشتی ڈوبنے لگی، حضرت یونس علیہ السلام نے سمندر میں چھلانگ لگادی، ایک بڑی مچھلی نے انھیں نگل لیا، اللہ نے انھیں مچھلی کے پیٹ میں بھی بالکل صحیح و سالم زندہ رکھا، چند روز بعد مچھلی نے انھیں ساحل پر اگل دیا، ادھر یہ ہوا کہ ان کی قوم کے مرد اور عورتیں، بچے اور بڑے سب صحرا میں نکل گئے اور انھوں نے آہ و زاری اور توبہ و استغفار شروع کردیا اور سچے دل سے ایمان قبول کرلیا، جس کی وجہ سے اللہ کا عذاب ان سے ٹل گیا۔


=======

دسواں پارہ

 دسواں پارہ​

=======


اس پارے میں دو حصے ہیں:

۱۔ سورۂ انفال کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ توبہ کا ابتدائی حصہ


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ انفال کے بقیہ حصے میں پانچ باتیں یہ ہیں:

۱۔ مال غنیمت کا حکم

۲۔ غزوۂ بدر کے حالات

۳۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب

۴۔ جنگ سے متعلق ہدایات

۵۔ ہجرت اور نصرے کے فضائل


۱۔ مال غنیمت کا حکم:

مال غنیمت کا حکم یہ بیان ہوا کہ خمس نبی علیہ السلام آپ کے اقرباء یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور باقی چار حصے مجاہدین کے لیے ہیں۔


۲۔ غزوۂ بدر کے حالات:

(۱) کفار مسلمانوں کو اور مسلمان کفار کو تعداد میں کم سمجھے اور ایسا اس لیے ہوا کہ اس جنگ کا ہونا اللہ کے ہاں طے ہوچکا تھا۔

(۲) شیطان مشرکین کے سامنے ان کے اعمال کو مزین کرکے پیش کرتا رہا ، دوسری طرف مسلمانوں کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے نازل ہوئے۔

(۳) قریش غزوۂ بدر میں ذلیل و خوار ہوئے۔


۳۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب:

(۱) میدان جنگ میں ثابت قدمی۔

(۲) کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر۔

(۳) اختلاف اور لڑائی سے بچ کر رہنا۔

(۴) مقابلے میں نا موافق امور پر صبر۔


۴۔ جنگ سے متعلق ہدایات:

(۱) دشمنوں سے مقابلے کے لیے مادی، عسکری اور روحانی تینوں اعتبار سے تیاری مکمل رکھو۔

(۲) اگر کافر صلح کی طرف مائل ہوں تو صلح کرلو۔


۵۔ ہجرت اور نصرت کے فضائل:

(۱) مہاجرین و انصار سچے مومنین ہیں (۲) گناہوں کی مغفرت (۳) رزق کریم کا وعدہ


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ توبہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں دو باتیں یہ ہیں:


۱۔ مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ جہاد

مشرکین سے جو معاہدے ہوئے تھے ان سے براءت کا اعلان ہے، مشرکین کو حج بیت اللہ تعالیٰ سے منع کردیا گیا، اہل کتاب کے ساتھ قتال کی اجازت دی گئی۔


۲۔ مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان امتیاز

منافقوں اور مسلمانوں میں امتیاز کرنے والی بنیادی چیز غزوۂ تبوک بنی، رومیوں کے ساتھ مقابلہ جو وقت کے سپر پاور تھے اور شدید گرمی اور فقر و فاقہ کے موقع پر پھل پکے ہوئے تھے، مسلمان سوائے چند کے سب چلے گئے، جبکہ منافقین نے بہانے تراشنے شروع کردیے، پارے کے آخر تک منافقین کی مذمت ہے، یہاں تک فرمادیا کہ اے پیغمبر! آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں تو بھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرے گا اور اگر ان میں کسی کا انتقال ہوجائے تو آپ اس کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھیے گا، پھر ان مسلمانوں کا بھی ذکر ہے جو کسی عذر کی وجہ سے اس غزوے میں نہ جاسکے۔


=======

نواں پارہ

 نواں پارہ​

======


اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ سورۂ اعراف کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ انفال کا ابتدائی حصہ


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


(۱) سورۂ اعراف کے بقیہ حصے میں چھ باتیں یہ ہیں:​

۱۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی قصہ

۲۔ عہد الست کا ذکر

۳۔ بلعم بن باعوراء کا قصہ

۴۔ تمام کفار چوپائے کی طرح ہیں

۵۔ قیامت کا علم کسی کو نہیں

۶۔ قرآن کی عظمت


۔ ۔ ۔


بلعم بن باعوراء کا قصہ:

فتح مصر کے بعد جب بنی اسرئیل کو قوم جبارین سے جہاد کرنے کا حکم ملا تو جبارین ڈرگئے اور بلعم بن باعوراء کے پاس آئے کہ کچھ کرو، بلعم کے پاس اسم اعظم تھا، اس نے پہلے تو اس نے مدد کرنے سے منع کیا، مگر جب انھوں نے رشوت دی تو یہ بہک گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرئیل کے خلاف بد دعائیہ کلمات کہنے شروع کیے، مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ وہ کلمات خود اس کے اور قوم جبارین کے خلاف نکلے، اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان نکال کر اس کو کتے کی طرح کردیا۔ فمثله كمثل الكلب


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ انفال کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں تین باتیں یہ ہیں:​

۱۔ غزوہ بدر اور مال غنیمت کا حکم

۲۔ مومنین کی پانچ صفات

۳۔ چھ بار مومنین سے خطاب


۔ ۔ ۔


مومنین کی پانچ صفات یہ ہیں:

(۱)خشیت (۲)تلاوت (۳)توکل (۴)نماز (۵)سخاوت (آیت:۲و۳)


۔ ۔ ۔


چھ بار مومنین سے خطاب:

(۱) آیت: ۱۴ (اے ایمان والو! میدان جنگ میں کفار کے مقابلے سے پیٹھ نہ پھیرنا)

(۲) آیت: ۲۰ (اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو)

(۳) آیت: ۲۴ (اے ایمان والو! اللہ اور رسول جب کسی کام کے لیے بلائیں تو ان کو جواب دو)

(۴) آیت: ۲۷ (اے ایمان والو! نہ اللہ اور رسول سے خیانت کرو ، نہ اپنی امانتوں میں خیانت کا ارتکاب کرو)

(۵) آیت: ۲۹ (اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھیں ممتاز کردے گا اور تمھارے گناہ معاف کردے گا)

(۶) آیت: ۴۵ (اے ایمان والو! دشمن سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو یاد کرو)


=======

آٹھواں پارہ

 آٹھواں پارہ​

=======


اس پارے میں دو حصے ہیں:

۱۔ سورۂ انعام کا بقیہ حصہ

۲۔سورۂ اعراف کا ابتدائی حصہ


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ انعام کے بقیہ حصے میں چار باتیں یہ ہیں:

1۔ تسلی رسول

2۔ مشرکین کی چار حماقتیں

3۔ اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں

4۔ دس وصیتیں


۔ ۔ ۔ 


1۔ تسلی رسول:

اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہے کہ یہ لوگ ضدی ہیں، معجزات کا بے جا مطالبہ کرتے رہتے ہیں، اگر مردے بھی ان سے باتیں کریں تو یہ پھر بھی ایمان نہ لائیں گے، حالانکہ قرآن کا معجزہ ایمان لانے کے لیے کافی ہے۔


2۔ مشرکین کی چار حماقتیں:

۱۔ یہ لوگ چوپایوں میں اللہ تعالیٰ کا حصہ اور شرکاء کا حصہ الگ الگ کردیتے، شرکاء کے حصے کو اللہ تعالیٰ کے حصے میں خلط نہ ہونے دیتے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا حصہ شرکاء کے حصے میں مل جاتا تو اسے برا نہ سمجھتے۔ (آیت:۱۳۵)

۲۔ فقر یا عار کے خوف سے بیٹیوں کو قتل کردیتے۔ (آیت:۱۳۶)

۳۔ چوپایوں کی تین قسمیں کر رکھی تھیں: ایک جو ان کے پیشواؤں کے لیے مخصوص، دوسرے وہ جن پر سوار ہونا ممنوع، تیسرے وہ جنھیں غیر اللہ کے نام سے ذبح کرتے تھے۔ (آیت:۱۳۸)

۴۔ چوپائے کے بچے کو عورتوں پر حرام سمجھتے اور اگر وہ بچہ مردہ ہوتا تو عورت اور مرد دونوں کے لیے حلال سمجھتے۔ (آیت:۱۳۹)


3۔ اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں:

(۱)کھیتیاں (۲)چوپائے


4۔ دس وصیتیں:

(۱) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۲) ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۳) اولاد کو قتل نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۴) برائیوں سے اجتناب کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۵) ناحق قتل نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۶) یتیموں کا مال نہ کھایا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۷) ناپ تول پورا کیا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۸) بات کرتے وقت انصاف کو مد نظر رکھا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۹) اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کیا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۱۰) صراط مستقیم ہی کی اتباع کی جائے۔ (آیت:۱۵۳)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ اعراف کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں پانچ باتیں یہ ہیں:


۱۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں

۲۔ چار ندائیں

۳۔ جنتی اور جہنمیوں کا مکالمہ

۴۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل

۵۔ پاتچ قوموں کے قصے


۔ ۔ ۔ 


۱۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں:

(۱)قرآن کریم (۲)تمکین فی الارض (۳)انسانوں کی تخلیق (۴)انسان کو مسجود ملائکہ بنایا۔


۲۔ چار ندائیں:

صرف اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار مرتبہ يَا بَنِي آدَمَ کہہ کر پکارا ہے۔ پہلی تین نداؤں میں لباس کا ذکر ہے، اس کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر رد کردیا کہ تمھیں ننگے ہوکر طواف کرنے کو االلہ تعالیٰ نے نہیں حکم نہیں دیا جیسا کہ ان کا دعوی تھا۔ چوتھی بار "يَا بَنِي آدَمَ" کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اتباع رسول کی ترغیب دی ہے۔


۳۔ جنتیوں اور جہنمیوں کا مکالمہ:

جنتی کہیں گے: ”کیا تمھیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا یقین آگیا؟“، جہنمی اقرار کریں گے، جہنمی کھانا پینا مانگیں گے، مگر جنتی ان سے کہیں گے: ”اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اپنی نعمتیں حرام کر دی ہیں۔“


۴۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل:

(۱)بلند وبالا آسمان (۲)وسیع وعریض عرش (۳)رات اور دن کا نظام (۴)چمکتے شمس و قمر اور ستارے (۵)ہوائیں اور بادل (۶)زمین سے نکلنے والی نباتات


۵۔ پانچ قوموں کے قصے:

(۱)قوم نوح (۲)قوم عاد (۳)قوم ثمود (۴)قوم لوط اور (۵)قوم شعیب

ان قصوں کی حکمتیں: (۱)تسلی رسول (۲)اچھوں اور بروں کا انجام بتانا (۳)اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں (۴)رسالت کی دلیل کہ اُمّی ہونے کے باوجود پچھلی قوموں کے قصے سنا رہے ہیں (۵)انسانوں کے لیے عبرت و نصیحت


=======

ساتواں پارہ

 ساتواں پارہ​

=======


اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ سورۂ مائدہ کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ انعام ابتدائی حصہ


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ مائدہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں یہ ہیں:​

1۔ حبشہ کے نصاری کی تعریف

2۔ حلال وحرام کے چند مسائل

3۔ قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام


۔ ۔ ۔ ۔ 


1۔ حبشہ کے نصاری کی تعریف:

جب ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو اسے سن کر ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں۔


2۔ حلال وحرام کے چند مسائل:

الف: ہر چیز خود سے حلال یا حرام نہ بناؤ۔

ب: لغو قسم پر مؤاخذہ نہیں، البتہ یمین غموس پر کفارہ ہے، یعنی دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا انھیں پہننے کے لیے کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور ان تینوں کے نہ کرسکنے کی صورت میں تین دن روزے رکھنا۔

ج: شراب، جوا، بت اور پانسہ حرام ہیں۔

د: حالتِ احرام میں مُحرِم سمندری شکار کرسکتا ہے، خشکی کا شکار نہیں کرسکتا۔

ہ: حرم میں داخل ہونے والے کے لیے امن ہے۔

و: چار قسم کے جانور مشرکین نے حرام کر رکھے تھے بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔


3۔ قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام:

قیامت کے دن حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سے پوچھا جائے گا کہ جب تم نے ہمارا پیغام پہنچایا تو تمھیں کیا جواب دیا گیا؟ اسی سوال و جواب کے تناظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ اپنے احسانات گنوائیں گے، ان احسانات میں مائدہ والا قصہ بھی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے کہو "ہم پر ایسا دسترخوان اتارے جس میں کھانے پینے کی آسمانی نعمتیں ہوں" ، چناچہ دسترخوان اتارا گیا، ان احسانات کو گنواکر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے "اے عیسیٰ! کیا تم نے ان سے کہا تھا کہ تمھیں اور تمھاری ماں کو معبود مانیں" تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے "تو پاک ہے، میں نے تو ان سے تیری عبادت کا کہا تھا" الی آخرہ۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ انعام کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں تین باتیں یہ ہیں:​

۱۔ توحید ۲۔ رسالت ۳۔ قیامت


۔ ۔ ۔ ۔ 


۱۔ توحید:

اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور عظمت وکبریائی خوب بیان ہوئی ہے۔


۲۔ رسالت:

نبی علیہ السلام کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیائے کرام علیہم السلام کا تذکرہ فرمایا ہے:

(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام ، (۲)حضرت اسحاق علیہ السلام ، (۳)حضرت یعقوب علیہ السلام ، (۴)حضرت نوح علیہ السلام ، (۵)حضرت داؤد علیہ السلام ، (۶)حضرت سلیمان علیہ السلام ، (۷)حضرت ایوب علیہ السلام ، (۸)حضرت یوسف علیہ السلام ، (۹)حضرت موسٰی علیہ السلام ، (۱۰)حضرت ہارون علیہ السلام ، (۱۱)حضرت زکریا علیہ السلام ، (۱۲)حضرت یحیٰ علیہ السلام ، (۱۳)حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، (۱۴)حضرت الیاس علیہ السلام ، (۱۵)حضرت اسماعیل علیہ السلام ، (۱۶)حضرت یسع علیہ السلام ، (۱۷)حضرت یونس علیہ السلام ، (۱۸)حضرت لوط علیہ السلام۔


۳۔ قیامت:

۔۔۔ قیامت کے روز اللہ تمام انسانوں کا جمع کرے گا۔ (آیت:۱۲)

۔۔۔ روزِ قیامت کسی انسان سے عذاب کا ٹلنا اس پر اللہ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ (آیت:۱۶)

۔۔۔ روزِ قیامت مشرکین سے مطالبہ کیا جائے گا کہ کہاں ہیں تمھارے شرکاء؟ (آیت:۲۲)

۔۔۔ اس روز جہنمی تمنا کریں گے کہ کاش! انھیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ وہ اللہ رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والے بن جائیں۔(آیت:۲۷)

۔۔۔ دنیا کی زندگی تو کھیل اور مشغلہ ہے ، آخرت کی زندگی بدرجہا بہتر ہے۔ (آیت:۳۲)


=======

چھٹا پارہ

 چھٹا پارہ​

======


اس پارے میں دو حصے ہیں:

۱۔ سورۂ نساء کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ مائدہ کا ابتدائی حصہ


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


پہلا حصہ


سورۂ نساء کے بقیہ حصے میں تین باتیں یہ ہیں:


۱۔ یہود کی مذمت

۲۔ نصاری کی مذمت

۳۔ میراث


۔ ۔ ۔ 


۱۔ یہود کی مذمت:

انھوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی۔


۲۔ نصاری کی مذمت:

یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلو کا شکار ہوکر عقیدۂ تثلیث کے حامل ہوگئے۔


۳۔ میراث:

سگی اور سوتیلی (باپ شریک) بہن بھائیوں کے حصے مذکور ہوئے کہ ایک بہن کو نصف ، ایک سے زیادہ کو دو ثلث اور اگر بھائی بھی ہوں تو لڑکے کو لڑکی سے دوگنا ملے گا۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


دوسرا حصہ


سورۂ مائدہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں پانچ باتیں یہ ہیں:


۱۔ اوفوا بالعقود (ہر جائز عہد اور عقد جو تمھارے اور رب کے درمیان ہو یا تمھارے اور انسانوں کے درمیان ہو اسے پورا کرو۔)


۲۔ چار حرام چیزیں (مردار ، بہنے والا خون، خنزیر کا گوشت اور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو)


۳۔ طہارت (وضو ، تیمم اور غسل کے مسائل)


۴۔ ہابیل اور قابیل کا قصہ (قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تھا، اس ضمن میں قتل اور چوری کے احکامات ہیں۔)


۵۔ یہود و نصاری کی مذمت (یہ لوگ خود کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں، حالانکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی آتا ہے، ان کی طرف سے جو سرکشی کے واقعات ہوئے ہیں ان پر نبی علیہ السلام کو تسلی دی گئی، مسلمانوں کو ان سے دوستی کرنے سے منع کیا گیا اور حضرت داؤد اور عیسٰی علیہما السلام کی زبانی ان پر لعنتِ خداوندی مذکور ہوئی، پھر آخر میں بتایا گیا کہ یہ تمھارے خطرناک دشمن ہیں۔)


=======

پانچواں پارہ

 پانچواں پارہ​

=======


اس پارے میں آٹھ باتیں یہ ہیں:​

۱۔ خانہ داری کی تدابیر

۲۔ عدل اور احسان

۳۔ جہاد کی ترغیب

۴۔ منافقین کی مذمت

۵۔ قتل کی سزائیں

۶۔ ہجرت اور صلاۃ الخوف

۷۔ ایک قصہ

۸۔ سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


۱۔ خانہ داری کی تدابیر:


پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مرد سربراہ ہے عورت کا ، پھر سرکش بیوی سے متعلق مرد کو تین تدبیریں بتائی گئیں: ایک یہ کہ اس کو وعظ و نصیحت کرے، نہ مانے تو بستر الگ کردے، اگر پھر بھی نہ مانے تو انتہائی اقدام کے طور پر حد میں رہتے ہوئے اس کی پٹائی بھی کرسکتا ہے۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


۲۔ عدل واحسان:

عدل و احسان کا حکم دیا گیا تاکہ اجتماعی زندگی بھی درست ہوجائے۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


۳۔ جہاد کی ترغیب:

جہاد کی ترغیب دی کہ موت سے نہ ڈرو، وہ تو گھر بیٹھے بھی آسکتی ہے، نہ جہاد میں نکلنا موت کو یقینی بناتا ہے، نہ گھر میں رہنا زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


۴۔ منافقین کی مذمت:

منافقین کی مذمت کرکے مسلمانوں کو ان سے چوکنا کیا ہے کہ خبردار! یہ لوگ تمھیں بھی اپنی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


۵۔ قتل کی سزائیں:

قتل کی سزائیں بیان کرتے ہوئے بڑا سخت لہجہ استعمال ہوا کہ مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلے گا۔ (مراد اس سے جائز سمجھ کر قتل کرنے والا ہے۔)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


۶۔ ہجرت اور صلاۃ الخوف:

جہاد کی ترغیب دی تھی، اس میں ہجرت بھی کرنی پرتی ہے اور جہاد ار ہجرت میں نماز پڑھتے وقت دشمن کا خوف ہوتا ہے، اس لیے صلاۃ الخوف بیان ہوئی۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


۷۔ ایک قصہ:

ایک شخص جو بظاہر مسلمان مگر در حقیقت منافق تھا اس نے چوری کی اور الزام ایک یہودی پر لگادیا، نبی علیہ السلام تک یہ واقعہ پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی کے خلاف فیصلہ دینے ہی والے تھے کہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ چور وہ مسلمان نما منافق ہے، چنانچہ وہ چور مکہ بھاگا اور کھلا کافر بن گیا۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


۸۔ سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب:

شیطان کی اطاعت سے بچو، وہ گمراہ کن ہے، ابوالانبیاء ابرہیم علیہ السلام کی اتباع کرو، عورتوں کے حقوق ادا کرو، منافقین کے لیے سخت عذاب ہے۔


=======

چوتھا پارہ

 چوتھا پارہ

=======


اس پارے میں دو حصے ہیں:

۱۔ بقیہ سورۂ آل عمران

۲۔ ابتدائے سورۂ نساء


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


پہلا حصہ


سورۂ آل عمران کے بقیہ حصے میں پانچ باتیں یہ ہیں:


1۔ خانہ کعبہ کے فضائل:

یہ سب سے پہلی عبادت گاہ ہے اور اس میں واضح نشانیاں ہیں جیسے: مقام ابراہیم۔ جو حرم میں داخل ہوجائے اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔ 


2۔ باہمی جوڑ:

اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو۔


3۔ امر بالمعروف اور نہی عن النکر:

یہ بہترین امت ہے کہ لوگوں کی نفع رسانی کے لیے نکالی گئی ہے، بھلائی کا حکم کرتی ہے، برائی سے روکتی ہے اور اللہ پر ایمان رکھتی ہے۔


4۔ تین غزوے:

۱۔غزوۂ بدر ۲۔غزوۂ حد ۳۔غزوۂ حمراء الاسد


5۔ کامیابی کے چار اصول:

۱۔صبر ۲۔مصابرہ ۳۔مرابطہ ۴۔تقوی


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


دوسرا حصہ


سورۂ نساء کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں چار باتیں یہ ہیں:


1۔ یتیموں کا حق: (ان کا مال ان کے حوالے کردیا جائے۔)

2۔ تعدد ازواج: (ایک مرد بیک وقت چار نکاح کرسکتا ہے بشرط ادائے حقوق۔)

3۔ میراث: (اولاد ، ماں باپ ، بیوی اور بہن بھائیوں کے حصے بیان ہوئے اس قید کے ساتھ کہ پہلے وصیت اور قرض ادا کردیے جائیں۔)

4۔ بارہ محرمات: (مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، رضاعی مائیں، رضاعی بہنیں، ساس، سوتیلی بیٹیاں، بہوئیں۔)


=======

تیسرا پارہ

 تیسرا پارہ​



اس پارے میں دو حصے ہیں:

1۔بقیہ سورۂ بقرہ

2۔ابتدائے سورۂ آل عمران


(پہلا حصہ) سورۂ بقرہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں:

۱۔دو بڑی آیتیں ۲۔دو نبیوں کا ذکر ۳۔صدقہ اور سود


۱۔ دو بڑی آیتیں:

ایک ”آیت الکرسی“ ہے جو فضیلت میں سب سے بڑی ہے، اس میں سترہ مرتبہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔

دوسری ”آیتِ مداینہ“ جو مقدار میں سب سے بڑی ہے اس میں تجارت اور قرض مذکور ہے۔


۲۔ دو نبیوں کا ذکر:

ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مباحثہ اور احیائے موتٰی کے مشاہدے کی دعاء۔

دوسرے عزیر علیہ السلام جنھیں اللہ تعالیٰ نے سوسال تک موت دے کر پھر زندہ کیا۔


۳۔ صدقہ اور سود:

بظاہر صدقے سے مال کم ہوتا ہے اور سود سے بڑھتا ہے، مگر در حقیقت صدقے سے بڑھتا ہے اور سود سے گھٹتا ہے۔


(دوسرا حصہ) سورۂ آل عمران کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں چار باتیں ہیں:

1۔ سورۂ بقرہ سے مناسبت

2۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کے چار قصے

3۔اہل کتاب سے مناظرہ ، مباہلہ اور مفاہمہ

4۔ انبیائے سابقین سے عہد


1۔ سورۂ بقرہ سے مناسبت

مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں قرآن کی حقانیت اور اہل کتاب سے خطاب ہے۔ سورۂ بقرہ میں اکثر خطاب یہود سے ہے جبکہ آل عمران میں اکثر روئے سخن نصاری کی طرف ہے۔


2۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے چار قصے:

پہلا قصہ جنگ بدر کا ہے، تین سو تیرہ نے ایک ہزار کو شکست دے دی۔

دوسرا قصہ حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل کے پائے جانے کا ہے۔

تیسرا قصہ حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد عطا ہونے کا ہے۔

چوتھا قصہ حضرت عیسی علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونے، بچپن میں بولنے اور زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا ہے۔


3۔ مناظرہ ، مباہلہ اور مفاہمہ:

اہل کتاب سے مناظرہ ہوا، پھر مباہلہ ہوا کہ تم اپنے اہل و عیال کو لاؤ، میں اپنے اہل و عیال کو لاتا ہوں، پھر مل کر خشوع و خضوع سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس پر خدا کہ لعنت ہو، وہ تیار نہ ہوئے تو پھر مفاہمہ ہوا، یعنی ایسی بات کی دعوت دی گئی جو سب کو تسلیم ہو اور وہ ہے کلمۂ ”لا الہ الا اللہ“۔


4۔ انبیائے سابقین سے عہد:

انبیائے سابقین سے عہد لیا گیا کہ جب آخری نبی آئے تو تم اس کی بات مانو گے، اس پر ایمان لاؤ گے اور اگر تمھارے بعد آئے تو تمھاری امتیں اس پر ایمان لائیں۔

دوسرا پارہ

 دوسرا پارہ


=======


اس پارے میں چار باتیں ہیں:

1۔ تحویل قبلہ

2۔ آیت بر اور ابوابِ بر

3۔ قصۂ طاعون

4۔ قصۂ طالوت


=======


1۔ تحویل قبلہ:

ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس قبلہ رہا ، آپ ﷺ کی چاہت تھی کہ خانہ کعبہ قبلہ ہو، اللہ تعالیٰ نے آرزو پوری کی اور قبلہ تبدیل ہوگیا۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


2۔ آیتِ بر اور ابوابِ بر:

لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ ۔۔۔۔ (البقرۃ:۱۷۷) یہ آیتِ بر کہلاتی ہے، اس میں تمام احکامات عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق اجمالی طور پر مذکور ہیں، آگے ابواب البر میں تفصیلی طور پر ہیں:

۱۔صفا مروہ کی سعی ۲۔مردار، خون، خنزیرکا گوشت اور جو غیر اللہ تعالیٰ کے نامزد ہو ان کی حرمت ۳۔قصاص ۴۔وصیت ۵۔روزے ۶۔اعتکاف ۷۔حرام کمائی ۸۔قمری تاریخ ۹۔جہاد ۱۰۔حج ۱۱۔انفاق فی سبیل اللہ تعالیٰ ۱۲۔ہجرت ۱۳۔شراب اور جوا ۱۴۔مشرکین سے نکاح ۱۵۔حیض میں جماع کی حرمت ۱۶۔ایلاء ۱۷۔طلاق ۱۸۔عدت ۱۹۔رضاعت ۲۰۔مہر ۲۱۔حلالہ ۲۲۔معتدہ سے پیغامِ نکاح۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


3۔ قصۂ طاعون:

کچھ لوگوں پر طاعون کی بیماری آئی، وہ موت کے خوف سے دوسرے شہر چلے گئے، اللہ تعالیٰ نے (دو فرشتوں کو بھیج کر) انھیں موت دی (تاکہ انسانوں کو پتا چل جائے کہ کوئی موت سے بھاگ نہیں سکتا) کچھ عرصے بعد اللہ نے (ایک نبی کے دعا مانگنے پر) انھیں دوبارہ زندگی دے دی۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


4۔ قصۂ طالوت:

طالوت کے لشکر نے جالوت کے لشکر کو باوجود کم ہونے کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے شکست دے دی۔


======

پہلا پارہ

 پہلا پارہ​

=====


اس پارے میں پانچ باتیں ہیں:

1۔ اقسام انسان

2۔ اعجاز قرآن

3۔ قصۂ تخلیقِ حضرت آدم علیہ السلام

4۔ احوال بنی اسرائیل

5۔ قصۂ حضرت ابراہیم علیہ السلام


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


1۔ اقسام انسان تین ہیں: مومنین ، منافقین اور کافرین۔

مومنین کی پانچ صفات مذکور ہیں:

۱۔ایمان بالغیب ۲۔اقامت صلوۃ ۳۔انفاق ۴۔ایمان بالکتب ۵۔یقین بالآخرۃ

منافقین کی کئی خصلتیں مذکور ہیں: جھوٹ، دھوکا، عدم شعور، قلبی بیماریاں، سفاہت، احکام الٰہی کا استہزائ، فتنہ وفساد، جہالت، ضلالت، تذبذب۔

اور کفار کے بارے میں بتایا کہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ ہے۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


2۔ اعجاز قرآن:

جن سورتوں میں قرآن کی عظمت بیان ہوئی ان کے شروع میں حروف مقطعات ہیں یہ بتانے کے لیے کہ انھی حروف سے تمھارا کلام بھی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی، مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام جیسا کلام بنانے سے عاجز ہو۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


3۔ قصۂ حضرت آدم علیہ السلام :

اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانا، فرشتوں کا انسان کو فسادی کہنا، اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السالم کو علم دینا، فرشتوں کا اقرارِ عدم علم کرنا، فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کروانا، شیطان کا انکار کرنا پھر مردود ہوجانا، جنت میں آدم وحواء علیہما السلام کو شیطان کا بہکانا اور پھر انسان کو خلافتِ ارض عطا ہونا۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


4۔ احوال بنی اسرئیل:

ان کا کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ کا ان پر لعنت نازل کرنا۔


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


5۔ قصہّ حضرت ابراہیم علیہ السلام:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کرنا اور پھر اللہ تعالیٰ سے اسے قبول کروانا اور پھر توبہ و استغفار کرنا۔


=======

رسول اللّهﷺ کا ہر امتی یہ تحریر ضرور ضرور پڑھے

 رسول اللّهﷺ کا ہر امتی یہ تحریر ضرور ضرور پڑھے

اگر آپ اپنے دماغ کو روشن کرنا چاہتے ہیں اور روحانیت کی دنیا میں پرواز کرنا چاہتے ہیں تو ایک ایک لفظ غور سے پڑھیں

 علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ نہ ہی کسی مدرسے میں پڑھے نہ درس نظامی کی تو آپ کو علامہ کیوں کہا جاتا ہے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ واقعی میں نے کوئی عالم فاضل کا کورس نہیں کیا لیکن بات اصل میں کچھ اور ہے فرمانے لگے کہ دنیا کی مجھے یہ عزت دینا اور میرے کلام میں یہ اثر اور میرے قلب و روح کی یہ تازگی یہ سب رسول اللّهﷺ سے والہانہ محبت کی بدولت ہے اور یہ سب تب ممکن ہوئی جب میں نے رسول اللّهﷺ پہ درود پاک پڑھنا شروع کیا فرمایا کہ درود پاک کا یہ ورد بڑھتا گیا اور میں اس تعداد کو محفوظ کرتا گیا لاکھ دو لاکھ اور ایسے ہی جوں جوں آگے بڑھتا گیا اللہ میرے دماغ کو میرے دل کو میری روح کو روشن کرتا رہا۔ اور جب میں نے رسول اللّهﷺ کی ذات گرامی پہ ایک کروڑ درود پاک مکمل کیا تو اللہ رب العزت نے میرا انگ انگ روشن کر دیا لوگوں کے دلوں میں میری عزت بیٹھ گئی میرے کلام میں ایسا اثر ہوا کہ اللہ اللہ جب کلام لکھنے بیٹھتا الفاظ بارش کی طرح اترتے اس کے بعد علامہ صاحب درود پاک تواتر سے پڑھتے رہے۔

 میرے ایک عزیز ہیں جو ایئر فورس میں ملازمت کررے تھے وہاں ان کی ملاقات ہوئی جن سے یہ راز ان کو معلوم ہوا اور انہوں نے خود مجھے بتایا کہ میری زندگی پہلے کی بہت عجیب تھی لیکن جب میں نے مصمم ارادہ کیا اور محبت سے درود پاک کا ورد شروع کیا اور جب پہلی دفعہ ایک لاکھ درود پاک گن کے پورا کیا تو ایک خواب دیکھتا ہوں کہ میں کہیں محو سفر ہوں اور میرے سامنے ایک نہایت غلیظ نالہ ہے اور اس نالے کے اس پار بہت سہانی سرسبز اور جنت جیسی دنیا ہے خیر میں نے جیسے تیسے کر کے بہت مشکل سے وہ نالہ پار کیا اور اس پار پہنچ گیا جب میں نے پیچھے دیکھا تو وہی نالہ جس میں غلاظت تھی وہ نہایت صاف شفاف نہر میں تبدیل ہو چکا ہے حتی کہ اس بہتے پانی کے نیچے رنگ برنگ کے پتھر تک نظر آ رہے ہیں اور جسے دیکھ کے روح خوش ہو جائے اور میرے کپڑے نہایت صاف ستھرے اجلے اور سفید ہو چکے ہیں اور میرا ظاہری حسن بھی بڑھ چکا ہے الحمدللہ مجھے خواب ہی میں بتایا گیا کہ یہ نالہ میں بہتا پانی تمہارے اعمال ہیں جو پہلے غلیظ تھے اور اب درود پاک کی بدولت ان کی صفائی ہو چکی اب یہ سارے نیکیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں یقین جانیں وہ دن اور آج کا دن وہ بندہ کب سے سروس سے ریٹائر ہو چکا ہے آج بھی ان کا درود پاک کا ورد جاری و ساری ہے اور بہت سے جوان لڑکوں کو درود پاک کے ورد کی لذت سے روشناس کرا چکے ہیں اور آج اس بندہ کی روحانی کیفیت ماشااللہ کمال کی ہے اور اس بندہ کے دل و دماغ اور روح اس پاک ورد یعنی رسول اللّهﷺ پہ درود پاک کی بدولت روشن ہیں تو دوستو! آج ہی سے پختہ ارادہ کریں کہ ان شااللہ ان شااللہ میں نے رسول اللّهﷺ کی ذات مقدس پہ ایک کروڑ مرتبہ محبت و شوق سے درود پاک ضرور پڑھنا ہے یقین مانیں جیسے جیسے آپ رسول اللّهﷺ پہ درود پاک پڑھتے جائیں گے آپ پہ بہت سارے انکشافات ہوتے جائیں گے اور دل و دماغ و روح کے ایسے دریچے کھلیں گے کہ آپ ششدر رہ جائیں گے۔ روزانہ کی بنیاد پہ درود پاک کا ورد اپنا معمول بنا لیں۔ اللہ ہم سب کو آقا و مولا رسول اللّه محمد ﷺ پہ درود پاک پڑھنے کی سعادت نصیب فرمائے آمین اس پہ خود بھی عمل کریں اور اپنے گھر والوں کو بھی آگاہ کریں۔ 


(پلیز آگے سنڈ کرتے جائیں جتنے لوگ درودپاک پڑھیں گے آپ کو بھی ثواب ملتا رھے گا🌹❤️🌹)


درود پاک پڑھنے بے شمار لوگوں میں بہت تبدیلی آئی ۔ درود پاک 

 بڑی طاقت رکھتا ہے۔برائے کرم آج ہی سےدرود پاک پڑھنا شروع کریں شکریہ

جن سے آپ کو پیار ہے ان کو یہ پیغام پہنچائیں۔ 🤲🤲🤲 طالب دعا

تیسواں پارہ

 *تیسواں پارہ* *’’سورۃ النبا‘‘* الحمدللہ آج ہم تیسویں پارے کا خلاصہ پڑھنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، جس کی ابتدا سورئہ نباء سے ہوتی ہے جس می...