چھٹا پارہ
======
اس پارے میں دو حصے ہیں:
۱۔ سورۂ نساء کا بقیہ حصہ
۲۔ سورۂ مائدہ کا ابتدائی حصہ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پہلا حصہ
سورۂ نساء کے بقیہ حصے میں تین باتیں یہ ہیں:
۱۔ یہود کی مذمت
۲۔ نصاری کی مذمت
۳۔ میراث
۔ ۔ ۔
۱۔ یہود کی مذمت:
انھوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی۔
۲۔ نصاری کی مذمت:
یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلو کا شکار ہوکر عقیدۂ تثلیث کے حامل ہوگئے۔
۳۔ میراث:
سگی اور سوتیلی (باپ شریک) بہن بھائیوں کے حصے مذکور ہوئے کہ ایک بہن کو نصف ، ایک سے زیادہ کو دو ثلث اور اگر بھائی بھی ہوں تو لڑکے کو لڑکی سے دوگنا ملے گا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دوسرا حصہ
سورۂ مائدہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں پانچ باتیں یہ ہیں:
۱۔ اوفوا بالعقود (ہر جائز عہد اور عقد جو تمھارے اور رب کے درمیان ہو یا تمھارے اور انسانوں کے درمیان ہو اسے پورا کرو۔)
۲۔ چار حرام چیزیں (مردار ، بہنے والا خون، خنزیر کا گوشت اور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو)
۳۔ طہارت (وضو ، تیمم اور غسل کے مسائل)
۴۔ ہابیل اور قابیل کا قصہ (قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تھا، اس ضمن میں قتل اور چوری کے احکامات ہیں۔)
۵۔ یہود و نصاری کی مذمت (یہ لوگ خود کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں، حالانکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی آتا ہے، ان کی طرف سے جو سرکشی کے واقعات ہوئے ہیں ان پر نبی علیہ السلام کو تسلی دی گئی، مسلمانوں کو ان سے دوستی کرنے سے منع کیا گیا اور حضرت داؤد اور عیسٰی علیہما السلام کی زبانی ان پر لعنتِ خداوندی مذکور ہوئی، پھر آخر میں بتایا گیا کہ یہ تمھارے خطرناک دشمن ہیں۔)
=======
No comments:
Post a Comment