سنو جنت میں دونوں ساتھ ہوں گے
یقیں ہم کو دلایا ہے کسی نے
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
چلو اب بھُول جائیں سب گلے ہم
ہمیں اپنا بنایا ہے کسی نے
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
نہیں معلوم تھا یہ عشقِ کیا ہے
ہمیں کر کے بتایا ہے کسی نے
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
چراغوں کی طرح روشن نہیں تھا
ہمیں زندہ جلایا ہے کسی نے
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
ہمیں دُنیا کہاں اب راس آئے
ہمیں دل سے نکلا ہے کسی نے
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
ان آنکھوں کی بینائی کھو چکا ہوں
ان آنکھوں کو رولایا ہے کسی نے
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
میرا ہنسنا کبھی روکتا نہیں تھا
مُجھے رونا سکھایا ہے کسی نے
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
میں اب عادی غموں کا ہو چُکا ہوں
مُجھے اتنا ستایا ہے کسی نے
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
غزل آنکھوں پہ اُس کے لکھ رہا ہوں
مجھے شاعر بنایا ہے کسی نے
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
No comments:
Post a Comment